استعمال

( اِسْتِعْمال )
{ اِس + تِع (کسرہ ت مجہول) + مال }
( عربی )

تفصیلات


عمل  عِمْل  اِسْتِعْمال

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے اردو میں ١٧٤٦ء کو "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مذکر - واحد )
١ - عمل میں لانا، برتنا، کلام میں لانا۔
"وہ چیزیں جن کو مرد بناتے تھے اور جو مرد و عورت دونوں کے استعمال میں آتی تھیں ان کا نام رکھنے میں مرد نے ابتدا کی ہو گی۔"      ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٦٠ )
٢ - لفظ یا فقرے کا کسی خاص معنی میں بولا جانا۔
"محاوروں کے استعمال کا شوق مولوی صاحب کو بہت زیادہ تھا۔"      ( ١٩٤٤ء، ایک نواب صاحب کی ڈائری، ٦١ )
٣ - [ نجوم ]  نیرین کا مقابلہ۔ (مطلع العلوم (ترجمہ)، 367)
٤ - چاول کی قسم۔
"دوپہر میں سوا سیر پرانے استعمال کا پلاؤ۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٦٧ )