اسم آلہ ( مؤنث - واحد )
١ - کپڑے سینے کا آلہ، وہ نوکدار آلہ جس میں تاگا پِرو کر سینے کے لیے استعمال کرتے ہیں؛ سوزن۔
"اندر کھری چارپائی پر دلہن بیگم بیٹھی تھیں،. ایک پرانی ساڑی کو پھاڑ پھاڑ کر اس کی فراکیں سوئی دھاگے سے سیتی ہوئیں۔"
( ١٩٨١ء، چلتا مسافر، ١٤٣ )
٢ - جراحی کا سوئی نما آلہ جس سے زخم میں ٹانکے لگاتے ہیں۔
"ایک باریک سوئی لے کر اس میں ریشم کا باریک چکنا ڈورا ڈالو۔"
( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی (ترجمہ)، ٥٢ )
٣ - ٹیکہ لگانے کا آلہ، انجکشن لگانے کی سوئی۔
"اب ڈاکٹر نے چاہا کہ سوئی کے ذریعہ سے دوائی پہونچائی جائے، کسی نے اس تکلیف کو گوارا نہ کیا۔"
( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٤٦ )
٤ - کلوں اور اوزاروں یا آلات میں وہ نوکدار آلہ یا پرزہ جو کسی معین امر کو ظاہر کرے یا کسی معین نشان کو بتلائے۔
"ریڈیو کی آواز بڑھانے والے بٹن کو پورا گھما دیا اور سوئی جاواہر سے ہٹا دی۔"
( ١٩٣٩ء، پھول، ١٥٢ )
٥ - کل میں وہ نوکدار آلہ جس کی رگڑ سے مقید و مخفی آواز ظاہر ہونے لگتی ہے۔
"میں ایسی مشین کی گت پر ناچتا ہوں جس میں ایک فولاد کی سوئی ربڑ کی پلیٹ پر حرکت کرتی رہتی ہے۔"
( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٦ )
٦ - کونپل یا بیج کے پھوٹنے کی ابتدائی شکل جو ایک نوکیلی نرم ڈنڈی کی سی ہوتی ہے، پھٹاؤ، آل۔
"سبز سوزن نما معمولی پتے جنہیں عام طور پر سوئیاں کہتے ہیں، یہ محض بونی ٹہنیوں پر واقع ہوتے ہیں اور راست غیرمحدود بالیدگی کی ٹہنیوں پر نہیں ہوتے۔"
( ١٩٤٣ء، مبادی نباتیات، ٦٢٩:٢ )
٧ - [ کنایۃ ] کانٹا، خار، پھانس۔
"اس کے اندر پھر کچھ چُبھ رہا تھا جیسے کوئی سوئی ہے کہ کھٹک رہی ہے۔"
( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١٥٩ )
٨ - لوہے کے ترازو کا وسطی، نوکدار آلہ جس سے وزن کی صحت معلوم ہوتی ہے۔ (ماخوذ: فرہنگِ آصفیہ)۔