اشاعت

( اِشاعَت )
{ اِشا + عَت }
( عربی )

تفصیلات


شعی  اِشاعَت

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال المعتل اجوف یائ سے مصدر اور اردو میں حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٩٨ء کو 'مضامین سرسید" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مؤنث - واحد )
جمع   : اِشاعَتیں [اِشا + عَتیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : اِشاعَتوں [اِشا + عَتوں (و مجہول)]
١ - کسی عقیدے یا خیال وغیرہ کی ترویج، تبلیغ۔
'یہ پہلا صحیح قدم تھا جو ملک میں علم کی اشاعت کے لیے اٹھایا گیا تھا۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٣٩ )
٢ - کسی مرئ شے کے پھیلنے یا پھیلانے کا عمل، پھیلاؤ۔
'نور کی خط مستقیم میں اشاعت جس کی وجہ سے سایے پیدا ہوتے ہیں، یونان کے علما بھی خوب جانتے ہیں۔"
٣ - کسی مرئی شے بیماری یا فن وغیرہ کوپھیلانے کا عمل، وسعت پانے یا دیے جانے کا عمل۔
 دیتا ہے فنون کو وہ اشاعت کرتا ہے علوم کی حمایت      ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٢٠٧ )
٤ - اخبار یا کتاب وغیرہ چھپنے کے بعد منظرعام پر لائے جانے کا عمل، نشر۔
'سنسکرت زبان کے ترجمے ہمیشہ تیار ہوتے تھے اور اشاعت پاتے تھے۔"    ( ١٩١٤ء، شبلی، ملاقات، ١١:٣ )
٥ - ایڈیشن۔
'مرتب نے کافی محنت کی ہے اور ہر طرح سے اسے بہترین اشاعت بنانے کی کوشش کی ہے۔"    ( ١٩٥٥ء، اختر، مقالات، ٢٢٣ )
  • spreading;  spread
  • diffusion
  • propagation