اتحاد

( اِتِّحاد )
{ اِت + تِحاد }
( عربی )

تفصیلات


وحد  اِتِّحاد

عربی زبان میں ثلاثی مزید کے باب "افتعال المقعل واوی" سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - دو یا دو سے زیادہ کا مل کر ایک ہونا، واحدیت، وصل۔
"عیسائی خدا کی ابوت اور حلول و اتحاد کے قائل ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٧٥:٢ )
٢ - دو یا دو سے زیادہ افراد یا اشیاء کی ہیئت یا وصف میں شرکت، یکسانی۔
"پانی میں بھی کیفیت ایسی ہی کچھ دیکھی جاتی ہے ہرچند کہ جنس میں اتحاد رکھتا ہو۔"
٣ - کسی جماعت یا گروہ کی یکدلی و ہم خیالی، اتفاق، ایکا۔
"اسلامی ممالک میں . اتحاد اور ہمدردی قائم رکھنے والی . ایک زبان عربی بھی ہے۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٧١ )
٤ - دو یا زیادہ افراد کا میل جول، ملاپ، دوستی، موانست، الفت۔
"مولانا جمال الدین پیر بھائی تھے ان سے بہت اتحاد تھا۔"    ( ١٩١٩ء، تذکرہ کاملان رام پور، ١٦٠ )
٥ - یک طرفہ دوستی یا انس و محبت۔
 دونوں کو اتحاد نے اک رنگ کر دیا کھلتا نہیں کہ یار ہے یا پیرہن میں ہم    ( ١٨٩٦ء، تجلیات عشق، ١٤٢ )
٦ - کلیۃً ایک ہو جانا، دوئی کا نہ رہنا، متوافقت، توافق ضدین کا۔
 نہیں اتحاد تن و جان سے واقف ہمیں یار سے جو جدا جانتا ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٨٣٩ )
٧ - [ تصوف ]  وجود مطلق کا اس طرح مشاہدہ کہ اس میں اور موجودات میں غیریت نظر نہ آئے، سالک کا حق کی ہستی میں مستغرق ہونا۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 25)
  • union
  • concord
  • intimate friendship;  combination
  • league
  • compact
  • treaty