سراپا

( سَراپا )
{ سَرا + پا }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'سر' اور حرف جار 'تا' اور اسم 'پا' کے ملنے سے مرکب 'سرتاپا' بنا اہل زبان میں کثرت استعمال کی بنا پر شاید کچھ ثقالت کم کرتے ہوئے تخفیف کے قاعدہ کے تحت 'ت' کو حذف کر دیا اور 'سراپا' مستعمل ہوا۔

صفت ذاتی ( واحد )
واحد غیر ندائی   : سَراپے [سَرا + پے]
جمع   : سَراپے [سَرا + پے]
١ - سر سے لیکر پاؤں تک، ابتدا سے انتہا تک، ازل سے آخر تک، کلیۃً، بالکل، مجسم، مکمل۔
"ہر آدمی سراپا عقیدت بن کر درگاہ کی طرف دوڑا جاتا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٣٢ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : سَراپے [سَرا + پے]
جمع   : سَراپے [سَرا + پے]
جمع غیر ندائی   : سَراپوں [سَرا + پوں (و مجہول)]
١ - قد و قامت۔
"اور سراپے میں بجلی سی لہرا لہرا جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٦٩ )
٢ - وہ اشعار جن میں کسی کے اعضائے بدن کی تعریف سر سے پاؤں تک کی جائے۔
"سراپا: اشعار کے ایسے مجموعہ کو سراپا کہتے ہیں جس میں شاعر معشوق کے حسن کا تفصیلی اور مکمل جزئیات کے ساتھ بیان کرتا ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، اصناف سخن اور شعری ہئیتیں، ١٩٥ )
٣ - خلعت، لباس فاخرہ۔
"ہر روز حضور میں آتی سراپا اور دلاسا پاتی۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٧٨:٨ )