پالش

( پالِش )
{ پا + لِش }
( انگریزی )

تفصیلات


انگریزی سے اردو میں داخل ہوا اور اپنے اصل معنی میں عربی رسم الخط میں استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٨٧٨ء میں "خیالاتِ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - صیقل، جِلا۔
"تمھاری کوشش اور ذریعہ سے - ان کے خیالات پر بھی ولایتی اور مغربی پالش ہو جائے۔"      ( ١٨٧٨ء، خیالاتِ آزاد، ٩٤ )
٢ - [ مجازا ]  تہذیب و نفاست، نستعلیق پن۔
اپنے نظامِ درویشی پر ایک آخری پالش یہ کریں گے کہ اپنے پِیر کا عرس کریں گے۔"      ( ١٩٢٩ء، خمارِ عیش، ٧٣ )
٣ - جِلا کرنے اور چمکانے کا روغن یا رنگ۔
"لال اور کالی پالش کی ڈبیاں کھول کر وہ سارا دن جوتے چمکایا کرتا تھا۔"      ( ١٩٧١ء، انگلیاں فگار اپنی، ١٢٥ )
  • polish