چاروں

( چاروں )
{ چا + روں (و مجہول) }
( سنسکرت )

تفصیلات


چِتْوَار  چار  چاروں

سنسکرت کے لفظ 'چتوار' سے فارسی میں 'چہار' بنا اور امکان ہے کہ یہ فارسی سے اردو زبان میں آیا اور چار کے ساتھ 'وں' بطور لاحقہ لگایا گیا ہے اور اردو اسم صفت کے مستعمل ہے ١٧٨٠ء میں "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت عددی ( جمع )
واحد   : چار [چار]
١ - چار کی جمع، چار، ہر چار۔     
 ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی ابوبکر و عمر عثمان و علی ہم مرتبہ ہیں یاران نبیۖ کچھ فرق نہیں ان چاروں میں     رجوع کریں:   ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٣٢ )