چاندی

( چانْدی )
{ چاں + دی }
( سنسکرت )

تفصیلات


چَنْدَر  چانْدی

سنسکرت زبان کے لفظ 'چندر' سے ماخوذ اردو میں 'چاند' بنا اور 'دی' لاحقہ نسبت لگا کر 'چاندی' بنا اور بطور اسم مستعمل ہوا۔ ١٥٦٤ء میں "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : چانْدِیاں [چاں + دِیاں]
جمع غیر ندائی   : چانْدِیوں [چاں + دِیوں (و مجہول)]
١ - ایک سفید رنگ کی قیمتی دھات جو کان سے نکلتی ہے اور بیشتر زیورات، سکے اور نازک قسم کے برت وغیرہ بنانے کے کام میں آتی ہے، نقرہ، فضّہ، سیم۔
"اگر چاندی کے ایک پیالے کو صراحی بنانا چاہیں تو جب تک پیالے کی صورت کو صراحی کو صورت اختیار نہیں کرسکتا"      ( ١٩٠٢ء، علم الکلام، ١٣٤:١ )
٢ - مال، دولت، روپیہ، سرمایہ۔
"حکومت اپنی ہویا پرائی انہیں اپنی چاندی کی فکر ہے"      ( ١٩٧٥ء، درد لکشا، ١٩ )
٣ - چاند، سرکے اوپر کا حصہ، چندیا۔
خداوند تیرے گھٹنوں اور ٹانگوں میں ایسے برے پھوڑے پیدا کرے گا کہ ان سے تو پاؤں کے تلوے سے لے کر سر کی چاندی تک شفا نہ پا سکے گا"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ١٩٣ )
٤ - ایک قسم کی مچھلی جو دو یا تین انچ لمبی ہوتی ہے۔ (شبد ساگر)
٥ - سفیدی، چمک۔
 یاں برف کے تودے گلتے تھے چاندی کے فوارے چلتے تھے چشمے سیماب اگلتے تھے نالوں نے دھو مچائی تھی      ( ١٩٣٧ء، نغمۂ فردوس، ٢٥:١ )