احمد

( اَحْمَد )
{ اَح + مَد }
( عربی )

تفصیلات


حمد  حمد  اَحْمَد

عربی زبان سے اسم مشتق ہے، ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل 'حامد' یا 'حمید' کی تفضیل ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت کے مستعمل ہے۔ اردو میں ١٥٩١ء کو "گل و صنوبر" کے قلمی نسخے میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جمع ندائی   : اَحْمدَو [اَح + مَدو (واؤ مجہول)]
جمع غیر ندائی   : اَحْمَدوں [اَح + مَدوں (واؤ مجہول)]
١ - بہت زیادہ یا سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔
 حمد کے لائق خدا ہے نعت کے قابل رسول حامد و محمود و احمد جس نے پائے ہیں خطاب      ( ١٩١٩ء، کیفی، کیف سخن، ١٠٤ )
اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
جمع ندائی   : اَحْمَدو [اَح + مَدو (واؤ مجہول)]
جمع غیر ندائی   : اَحْمَدوں [اَح + مَدوں (واؤ مجہول)]
١ - پیغمبر خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا علم (تنہا، نیز مجتبٰی، مختار، مرسل وغیرہ کے ساتھ مستعمل)۔
 جمے یہ دل میں الٰہی خیال احمد کا کہ روز خواب میں دیکھوں جمال احمد کا      ( ١٩٢٧ء، معراج نعت، ٢ )
  • سَتُودَہ تَر
١ - اَحمد کی بلا محمود کے سر
خطا کسی کی مواخذہ کسی سے۔ (فرہنگ اثر، ١٣٧)
٢ - اَحْمَد کی پگڑی محمود کے سر
اس موقعے پر مستعمل جب کسی چیز یا بات کی ذمہ داری دوسرے کی طرف منسوب کر دی جائے، کسی کا کام کسی کے سر، کلاہِ تقی برسر نقی۔"دنیا میں کسی مشہور ہردلعزیز تصنیف اور کام کے واسطے احمد کی پگڑی محمود کے سر کرنے کی بہار دیکھنے کا لطف تو . ہوتا ہی ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، معرکہ چکبست و شرر، ٢٧٧ )
خلاف قاعدہ یا بے ترتیب کام کرنے کی جگہ مستعمل۔ (امیراللغات، ٩٠:٢)
٣ - اَحْمَد کی داڑھی بڑی یا محمود کی
اس موقعے پر مستعمل جہاں یہ مقصد ہو کہ بے فائدہ بحث و تکر سے کیا حاصل، کام سے کام ہے حجت سے کیا غرض۔ (نجم الامثال، ٤٦، محاورات ہند، ٧، نوراللغات، ٢٨٧:١)