احد

( اَحَد )
{ اَحَد }
( عربی )

تفصیلات


وحد  واحد  اَحَد

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٤٢١ء کو خواجہ بندہ نواز کے ہاں "شکارنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت عددی ( مذکر )
١ - ایک، عدد واحد، ہندسوں میں "ا"۔
 نہیں بہم عشرات و احاد میں تکرار اگر مئات الوف آویں ہے احد ہی بکار      ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ٤٢٦ )
٢ - یکتا، جس کے ایسا کوئی نہ ہو، بے مثال، لا شریک، بسیط (خدائے تعالٰی کی صفت کے طور پر مستعمل)۔
 والی و رازق، احد، رب الرحیم اس کو سچا جان، کر حمد حکیم      ( ١٩٥٦ء، خیابان پاک، ٢ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - اللہ تعالٰی کے ننانوے ناموں میں سے ایک نام، خداوند عالم (بطور اسم)۔
 اسی کی ذات ہو اللہ اسی کا نام احد وہی صمد ہے وہی لم یلدو لم یولد      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٣:٥ )
٢ - [ تصوف ]  (تمام اسمی اور وصفی تعینات سے ہٹ کر) خالص ذات باری تعالٰی، وجود محض۔
 ظل احد پیدا ہوا نور صمد پیدا ہوا      ( ١٩٢٨ء، سلیم پانی پتی، افکار سلیم، ٦١ )
٣ - ایک شخص یا شے، فرد واحد (بیشتر ترکیب عربی میں مستعمل)
"تفاوت ان کے درمیان چار کا ہے ہر دو کہ احد المتفاوتین ہے دوچند کرنے سے چار ہوتے ہیں۔"      ( ١٨٠٥ء، جامع الاخلاق، ٩١ )
  • Unity;  one;  an individual