احصار

( اِحْصار )
{ اِح + صار }
( عربی )

تفصیلات


حصر  حِصْر  اِحْصار

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٦٧ء کو "نورالہدایہ" کے ترجمے میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - منحصر یا محدود و محصور کرنے کا عمل، حد بندی، حصر کرنا۔
"تناسبات کی مختلف صورتیں ہیں اور ان صور کا احصار استقرائی اصول کے تابع ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٣١١ )
٢ - [ فقہ ]  وہ رکاوٹ جس کی وجہ سے عازم حج یا محرم سفر ملتوی کر دے (جیسے مرض، دشمن وغیرہ)
"جب احصار اس کا مٹ جاوے اور ممکن ہو . حج کا پانا تو جاوے۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٢٣٦:١ )