احاطہ

( اِحاطَہ )
{ اِحا + طَہ }
( عربی )

تفصیلات


حوط  اِحاطَہ

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال المعتل اجوف واوی سے مصدر 'اِحَاطَت' بنتا ہے۔ جس کو 'تائے مربوطہ' کے ساتھ بھی لکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح 'تائے مربوطہ اردو میں 'ہ' میں تبدیل ہو گئی۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکاں ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : اِحاطِے [اِحا + طے]
جمع   : اِحاطے [اِحا + طے]
جمع غیر ندائی   : اِحاطوں [اِحا + طوں (و مجہول)]
١ - چار طرف حد بندی کے لیے کھینچا ہوا حصار، چار دیواری، باڑھ، خط یا نشان جس سے کوئی جگہ یا شے محدود ہو (اصلی یا مجازی)۔
"ان میں سے کچھ بھیڑیں احاطے (باڑھ) سے نکل کر فرانس اور سوئٹزر لینڈ میں جاے پناہ تلاش کر رہی تھیں۔"    ( ١٩٢٥ء، تاریخ یورپ جدید، ٢٧٨ )
٢ - چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ (میدان یا مکان وغیرہ، محصور رقبہ، محدود علاقہ (اصلی یا مجازی)
"آیندہ احاطہ عدالت میں نہ آنے پائے۔"    ( ١٩٣٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٩، ٤٦:٢٣ )
٣ - محلہ، بستی، باڑا، جیسے : احاطہ کالے صاحب (دہلی)، کچا احاطہ (لکھنو)
"امیر احمد محمد جان کو ٹامس صاحب کے احاطے سے بلوائے لیتا ہوں۔"    ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، ارمان، ١٣٠ )
٤ - آنگن، صحن نامہ، تعمیر کے اطراف کھلی ہوئی جگہ جو اس عمارت کا جزو سمجھی جاتی ہے۔"
"کچہری کے احاطے میں داخل ہوئے تھے کہ سنا ایک چپراسی آواز دے رہا ہے۔"    ( ١٩١٠ء، دیباچہ مکاتیب امیر، ١٥ )
٥ - دائرہ عمل و اختیار، عملداری، میدان کار، دسترس کی حد (اصلی یا مجازی)
"ورزش اور نیند بھی ضروری ہیں جن کا ذکر اس کتاب کے احاطے سے باہر ہے۔"      ( ١٩٤١ء، ہماری غذا، ٧ )
٦ - زمین کا وہ حصہ یا خطہ جو انتظامی طبعی خصوصیات یا کسی اور لحاظ سے ایک وحدت قرار دیا جائے (جیسے : صوبہ، ضلع، پرگنہ وغیرہ)، علاقہ، خطہ، سرزمین۔
"نہایت تعجب ہوا کہ احاطہ مدراس میں ایسی صاف اور فصیح اردو۔"      ( ١٩٠٨ء، مکاتیب حالی، ٩٣ )
٧ - (ایک شے کے کل اجزا) گھیرنے یا گھیرے جانے کا عمل، محیط یا حاوی ہونے کی کیفیت، حصر، جامعیت، گھیرنا محیط ہونا۔
"میں نے علوم عربیہ میں ان سے بڑھ کر کسی کو صاحب رسوخ و احاطہ نہیں پایا۔"
٨ - پورے اثر و رسوخ سے مسلط ہو جانا۔
"مبتلا کے پرانے یار دوستوں کو اس پر احاطہ کرنے کا موقع نہ ملا۔"    ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ١٣٢ )
٩ - وسعت، پھیلاؤ، سمائی
"'جب کہ عشق و محبت میں اس قدر احاطہ اور جامعیت ہے . تو کیا ضرور ہے . کہ عشق کو . محدود کر دیا جائے۔"    ( ١٨٩٣ء، مقدمہ حالی، ١٢٣ )
١ - اِحاطَہ چھوڑنا
عمارت کے اطراف کھلی زمین رکھنا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، ٩٨:١)
٢ - احاطہ کرنا
چاروں طرف سے گھیرنا، محصور کرنا، نیز استعارۃً۔"خوشی پر خوف کی ظلمت نے احاطہ کیا۔"      ( ١٨٩٢ء، عمر و عیار کی سوانح عمری، ٢٦ )
کل اجزا کو سمیٹ کر اپنے دائرہ اثر یا عمل میں لے آنا، استقصا کرنا۔"یونانیوں کے کل علوم پر احاطہ کر لیا گیا۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ٣٤٨:٢ )
کسی شے کی انتہائی حدوں کو پہنچ جانا۔"حرام زادوں . کے اوصاف کا صرف حضرت ابلیس ہی احاطہ کر سکتے ہیں۔"      ( ١٩٢٧ء، اودھ پنچ لکھنءو، ١٢، ٦:٥ )
چاروں طرف پھیلانا یا بچھا دینا۔ مثل خورشید احاطہ کیے ہیں نور جمال کوے جاناں میں کبھی سایہ دیوار نہیں      ( ١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ١٠٥:٢ )
کلیات و جزئیات کو پورے طور پر جاننا یا سمجھنا (بیشتر عقل وغیرہ کے ساتھ مستعمل)۔"ہم شے کے خواص پر بتمامھا احاطہ کر لیتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، فلسفیانہ مضامین، ٢٢ )
٣ - اِحاطہ کھینچنا
گرداگرد چار دیواری بنائی جانا، کسی جگہ کو نشان، تار یا دیوار وغیرہ سے گھیرا جانا۔"عمارت کی صورت ایک بڑے گنبد کے مشابہ ہے جس کے گرد احاطہ کھنچا ہوا ہے۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٧ )
٤ - اِحاطَہ کھینچنا
احاطہ کھنچنا سے فعل متعدی ہے۔"پہلے احاطہ کھینچ کر زمین اپنے قبضے میں کر لو، پھر عمارت بنتی رہے گی۔" ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٢٨٤:١
  • Surrounding
  • enclosing;  enclosed space;  enclosure;  premises;  precincts;  division of territory
  • province;  boundary
  • limit;  compass