اذن

( اِذْن )
{ اِذْن }
( عربی )

تفصیلات


اذن  اِذْن

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے قلی قطب شاہ کے دیوان میں ١٦١١ء کو مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - اجازت، رخصت، ممانعت کی ضد۔
"آپ اٹھ کر عرش کے پاس آئیں گے اور اِذن طلب کریں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٩٢:٣ )
٢ - حکم
 جب وہ آئے تو پیشتر سب سے میری آنکھوں کو اذن خواب ہوا      ( ١٩٣٦ء، جگر، شعلہ طور، ١٠ )
٣ - (نکاح پڑھائے جانے کے وقت) لڑکی یا لڑکے کا وکیل سے اس عقد پر اظہار رضامندی، جیسے : اذن کے وقت مہر کی صراحت ضروری ہے۔
١ - اذن پھرانا
اعلان کرنا، منادی کرنا۔'جماعت اذن پھرا دے۔"      ( ١٨٨٤ء، ظریف کے ڈرامے، ١١:٤ )