کشادگی

( کُشادْگی )
{ کُشاد + گی }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی مصدر 'کشادن' کے صیغۂ حالیہ تمام 'کشادہ' کا 'ہ' 'گ' میں بدل کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے 'کشادگی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٧ء کو "ستّہ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - وسعت، پہنائی، کشایش، گنجائش، پھیلاؤ۔
"وسعت اور کشادگی میں اسلامی عقیدوں کے پھیلاؤ کی طرف اشارہ ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٧٨ )
٢ - دو چیزوں کا درمیانی فاصلہ، فصل۔
"ہاتھ کی انگلیوں کی کشادگی خلال کرنے سے بپر جاتی ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٤٨ )
٣ - [ کنایۃ ]  فیاضی، خوش حالی، بہتری، فراخی۔
"امراؤ بیگم اپنے ہمراہ کچھ ایسی سہولتیں بھی نہ لائی تھیں کہ جن سے غالب کی زندگی میں کشادگی پیدا ہوتی۔"      ( ١٩٨٧ء، غالب ایک شاعر ایک اداکار، ٤٤ )
٤ - ہوادان، روشن دان، کھلے ہوئے حصّے۔
"تمام کشادگیاں حجروں کی جن سے ہوا کا تعلق ہے خواہ صریح ہو یا غیر صریح ہوا کو داخل یا خارج ہونے دیتے ہیں۔"      ( ١٨٩١ء، مبادی علم حفظ و صحت جہت مدارس ہند، ٤٥ )
٥ - آسانی، گنجائش کے ساتھ۔
"کشتی ٹین سیاہ اس سائز کی جس میں ظروف مذکورہ بالا کشادگی کے ساتھ رکھے جا سکیں۔"      ( ١٩١٦ء، خانہ داری، (معیشت)، ٢٧٥ )
  • an opening
  • an aperture;  openness
  • expansion
  • spaciousness
  • extension
  • extensiveness;  looseness;  latitude;  openness of hear
  • joy
  • cheerfulness
  • exhilaration