بیروں

( بیرُوں )
{ بے + رُوں }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
١ - باہر
"کچھ مقامات پر قریبی خلیات کے بیروں نوات مادۂ حیات (سائٹو پلازم) میں بلا واسطہ رابطہ بھی ہو سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ٣٧:١ )
٢ - [ تصوف ]  آفاق؛ بمقابلہ اندروں کے بمعنی انفس (مصباح التعرف الارباب التصوف، 65)
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - ظاہری حال۔
"ایک شخص نے جناب الطاف حسن قریشی کے دورن و بیرن میں کئی ایک میں میخ نکالیں۔"      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٢٢٥ )
٢ - [ تصوف ]  سالک کا اپنی ہستی سے باہر آنا یعنی فانی ہونا حق میں۔(مصباح التعرف لارباب التصوف، 65)
متعلق فعل
١ - علاوہ، بغیر۔ (پلیٹس)
  • without
  • on the outside
  • out