پرہیز

( پَرْہیز )
{ پَر + ہیز (ی مجہول) }
( فارسی )

تفصیلات


پَرہیزیدن  پَرْہیز

فارسی میں مصدر 'پرہیز یدن' سے حاصل مصدر 'پرہیز' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو (قلمی نسخہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : پَرْہیزوں [پَر + ہے + زوں (و مجہول)]
١ - بیماری کی حالت میں یا کسی تکلیف کے پیدا ہو جانے یا کسی نقصان کے خوف سے کسی فعل یا چیز (خصوصاً کھانے پینے کی چیز) سے بچنا، احتراز۔
"حکیم صاحب نے علاج کیا اور پرہیز یہ بتایا کہ یہ کسی عورت کے پاس نہ جائے۔"    ( ١٩١٤ء، دربار حرام پور، ٣١:١ )
٢ - گریز، اجتناب، کنارہ کشی۔
"کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو ممتاز مقام پر بیٹھنے سے پرہیز فرماتے۔"    ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٢٢:٢ )
٣ - احتیاط۔
 آنکھیں کس پرہیز سے کرتی ہیں دید جب تلک باہم چُھپا ہوتا ہے عشق      ( ١٨٢٤ء، مصحفی، انتخاب رام پور،١١٣ )
  • abstaining (from);  keeping aloof (from);  abstinence;  abstemiousness
  • forbearance
  • continence;  control of the passions;  caution
  • sobriety
  • temperance
  • moderation