آزردگی

( آزُرْدَگی )
{ آ + زُر + دَگی }
( فارسی )

تفصیلات


آزُرْدَن  آزُرْدہ  آزُرْدَگی

فارسی زبان میں مصدر 'آزردن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'آزُردگی' بنا۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : آزُرْدَگِیاں [آزُر + دَگِیاں]
جمع غیر ندائی   : آزُرْدَگِیوں [آ + زُر + دَگِیوں (واؤ مجہول)]
١ - (ایک دوسرے سے) رنجش، خفگی، ناراضی۔
 پھر یہ آزردگی، غیر سبب کیا معنی? اپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنی?      ( ١٩١١ء، بانگ درا، ١٨٣ )
٢ - رنج، ملال۔
"ان کی آزردگی کا خیال میرے دل میں نہ ہوتا تو میں یقیناً اس عزت افزائی سے معذرت کے ساتھ انکار کر دیتا۔"      ( ١٩٣٠ء، مضامین فرحت، ٤:٣ )
  • خوشی
  • Displeasure
  • vexation
  • annoyance;  grief;  dissatisfaction