تسخیر

( تَسْخِیر )
{ تَس + خِیر }
( عربی )

تفصیلات


سخر  تَسْخِیر

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - تابع کرنا، فرماں بردار بنانا، قبضے میں کرنا، فتح کرنا۔
"مادھوراے سیندھیا . تسخیر شمالی ہند میں لگا ہوا تھا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٠٥:٣ )
٢ - [ مجازا ]  دل لبھانا، (اپنی طرف) مسائل کرنا، قابو میں لانا۔
 دی منہ کو زبان، زبان کو تقریر پتلی کو نظر، نظر کو تسخیر      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، ترانۂ شوق، ١ )
٣ - جن یا پری کو قید کرنے کا عمل، ہمزاد وغیرہ کو اپنے بس میں کرنے کا عمل (اکثر پری وغیرہ کے ساتھ ترکیب میں مستعمل)۔
"اس زمانے میں مجھ کو تسخیر ہمزاد مسمر یزم اور سفلی عملیات کا شوق پیدا ہوا۔"      ( ١٩١٩ء، آپ بیتی، ٥٦ )
٤ - گھراؤ، محاصرہ۔
 لے کے دشمن سے خط تقدیر کھینچ یہ حصار اے دل پئے تسخیر کھینچ      ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٨١ )
  • subduing
  • conquering
  • taking (a stronghold or prisoners)
  • imprisoning
  • captivating;  making submissive
  • obedient or tractable;  subjugation;  capture;  captivation imprisonment (of evil spirits)