تعبیر

( تَعْبِیر )
{ تَع + بِیر }
( عربی )

تفصیلات


عبر  تَعْبِیر

عرب یزبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مؤنث - واحد )
جمع   : تَعْبِیرات [تَع + بی + رات]
جمع غیر ندائی   : تَعْبِیروں [تَع + بی + روں (و مجہول)]
١ - خواب کا مطلب، واقعۂ خواب کی تشریح۔
 تعبیر کی ترازوے نرم و نہفتہ میں تولے ہیں کتنے خواب پریشاں ترے لیے      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٤ )
٢ - مفہوم، منشا، مراد، وضاحت، تشریح، معنی۔
"تمام مسلمانان ہند اس تعبیر کو خلاف قانون اسلام سمجھتے ہیں۔"    ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٨٧:١ )
٣ - خواب کا نتیجہ و حقیقت۔
 دنیائے ادب تھی منتظر مدت سے معلوم ہے کس خواب کی تعبیر ہیں ہم    ( ١٩٣٣ء، ترانہ یگانہ، ١٣٦ )
  • interpretation
  • explanation (particularly of dreams);  attribute
  • quality