احمر

( اَحْمَر )
{ اَح + مَر }
( عربی )

تفصیلات


حمر  اَحْمَر

عربی زبان سے اسم صفت مشتق ہے، ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے۔ اردو میں ١٦٧٩ء کو دیوان سلطان میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - سرخ، لال رنگ کا، زیادہ سرخ، لال بھبھوکا
 قطرہ شبنم رخ گل سے ڈھلک کر گر پڑے جیسے ساغر سے مئے احمر چھلک کر گر پڑے      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٨ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : اَحْمَروں [اَح + مَروں (و مجہول)]
١ - سرخ رنگ کی قوم یا اس کا فرد۔
 بتاتی ابیض واسفر کو ہے آداب دنیا کے سکھاتی اسود و احمر کو ہے ارکان دیں مسجد      ( ١٩٤١ء، چمنستان، ظفر علی خان، ١٤ )