جماد

( جَماد )
{ جَماد }
( عربی )

تفصیلات


جمد  جَماد

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصل معنی اور حالت میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مادہ ( مذکر - واحد )
جمع   : جَمادات [جَما + دات]
١ - بے جان چیزیں۔
"مادہ . پہلے جماد بنا پھر نبات کی شکل میں آیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٤٠:٤ )
٢ - [ مجازا ]  بے حسی، جمود۔
"کسی نشے کی کثرت نہ کرے اور عادت نہ ڈالے نہیں تو خاصیت جماد کی پیدا کرے گا۔"      ( ١٨٠٥ء، آرایش محفل، افسوس، ٣٠٥ )
٣ - پتھر، پہاڑ، زمین وغیرہ۔
 وہ طرفہ حال کہ جس سے جماد رقص کرے نہ رنگ بھی متغیر ہو اہل تمکین کا      ( ١٨٦٩ء، شیفتہ، دیوان، ٤ )
٤ - وہ مادی چیزیں جو یکساں حالت پر ہوں اور جن میں نمونہ نہ پایا جاتا ہو، دھات، معدنیات وغیرہ۔
"مادیات کی دو قسمیں ہیں نامی یعنی بالندہ اور غیر نامی یعنی جماد۔"      ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمۃ، ٣٦ )
٥ - وہ زمین جہاں بارش نہ ہوئی ہو، پن کال، خشک سالی۔ (فرہنگ آنند راج)
  • a thing that is incapable of growth or increase
  • an inorganic thing