بابت

( بابَت )
{ با + بَت }
( عربی )

تفصیلات


بوب  بابَت

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے اور عربی سے ہی اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٧٤ء، میں "رموزالعارفین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : بابَتیں [با + بَتیں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : بابَتوں [با + بَتوں (واؤ مجہول)]
١ - بارے میں، باب میں۔
"آپ نے مجھ ناچیز کی بابت ایسی اچھی رائے کا اظہار فرمایا۔"      ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، راشدالخیری، ٧٤ )
٢ - [ قدیم ]  تخصیص، تفریق۔
 نیک و بد کی کچھ نہیں بابت رہی جس کو پی چاہے سہاگن ہے وہی      ( ١٧٧٤ء، رموزالعارفین، ٣٥ )
٣ - درخور، شائستہ، لائق، سزاوار، شایان، قابل۔
 الفت جوکی، کہتا ہے جی، حالت نہیں، عزت نہیں ہم بابت ذلت ہوئے، شائستہ کلفت ہوئے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٧٢١ )
٤ - وجہ، علت۔
 کپڑے پھٹے تو لوگوں میں غیرت کہاں رہی تعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہی      ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٢٠:٢ )
٥ - شمار، حساب، مد۔
"ان بابتوں کی آمدنی . بڑھ گئی ہے۔"      ( ١٨٩٩ء، رویائے صادقہ، ١٦٦ )
٦ - بسلسلہ، متعلق۔
مطبوعہ . الناظر بابت جولائی سنہ ١٩١٤ء،      ( ١٩١٤ء، فلسفیانہ مضامین، ٩٨ )
٧ - بڑی بات۔
 طوطا مینا تو ایک بابت ہے پودنا پھد کے تو قیامت ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٠١٠ )
  • account
  • head
  • item (of account)
  • article
  • business
  • affair
  • matter