ملائمت

( مُلائِمَت )
{ مُلا + اِمَت }
( عربی )

تفصیلات


لءم  مُلائِمَت

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٤٦ء کو "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - مزاج یا طبیعت وغیرہ سے موافقت، مناسبت، نرمی، نرم مزاجی۔
 دشمن کی ملائمت بلا ہے یہ موم کا سانپ کاٹتا ہے      ( ١٨٤٧ء، کلیات منیر، ٢٧٧:١ )
٢ - نرم یا لچک دار ہونے کی حالت۔
"ریشم چمک دمک، ملائمت کے لحاظ سے خود اپنی مثال ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، معاشی و تجارتی فنون، ٥٢ )
٣ - مزاج کی نرمی دھیما پن، مہربانی۔
"ان کی کرختگی کو ملائمت میں تبذیل کرتے ہوئے ان کی نجی حیثیت کو نہاں کیا جائے۔"      ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ٧٨ )
٤ - نرمی، لچک، جذباتیت کا نہ ہونا۔
"غزل کی زبان کے لیے صفائی رچاؤ سلاست شیرنی اور ملائمت کی زیادہ کڑی شرطیں عائد کی گئیں۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، جون، ٦٢ )
٥ - کمی، تخفیف، دھیماپن۔
 ملائمت ہے اندھیرے میں اس کی سانسوں سے دمک رہی ہیں وہ آنکھیں ہرے نگیں کی طرح      ( ١٩٧٤ء، ماہ منیر، ٨١ )
٦ - نزاکت، لاغری (ماخوذ: جامع اللغات)۔
  • softness;  tenderness;  smoothness;  gentleness