ملازمت

( مُلازَمَت )
{ مُلا + زَمَت }
( عربی )

تفصیلات


لزم  مُلازِم  مُلازَمَت

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : مُلازَمَتیں [مُلا + زَمَتیں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : مُلازَمَتوں [مُلا + زَمَتوں (واؤ مجہول)]
١ - (کسی سے) وابستگی، نزدیکی، ملاقات، بڑے آدمی کحی خدمت میں حاضر ہونا، خدمت حاضر ہونا۔
"یہ شرف ملازمت جو اتفاقاً سفر میں مجھے حاصل ہو گیا ہے اسی سفر تک محدود نہ رہے گا۔"      ( ١٩٢١ء، خونی شہزندہ، ٧ )
٢ - نوکری چاکری، خدمتگاری، خدمت۔
"اسلامی ریاستیں البتہ عربی کو سنبھال سکتی تھیں لیکن وہ بھی تمام نوکریوں اور ملازمتوں میں انگریزی دانی کی شرط لگائی جاتی تھیں۔"      ( ١٩٠٥ء، مفالات شبلی، ١٠٧:٨ )
٣ - دو چیزوں میں باہم نروم، ایک دوسرے کے لیے لازم ہونا، ایک حکم کا متقاضی ہونا۔
"نہ فرق کرنا ایسی چیزوں میں جن میں محض مصاحبت کی ملازمت ہے ان چیزوں سے جن میں علت و معلول کی ملازمت ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٩٣ )