مربع

( مُرَبَّع )
{ مُرَب + بَع }
( عربی )

تفصیلات


ربع  مُرَبَّع

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : مُرَبَّعے [مُرَب +بَعے]
جمع   : مُرَبَّعے [مُرَب + بَعے]
جمع غیر ندائی   : مُرَبّعوں [مُرَب + بَعوں (و مجہول)]
١ - [ اقلیدس ]  وہ چوکور شکل جس کے چاروں ضلعے آپس میں برابر ہوں اور چاروں زاویے قائم ہوں۔
"مربع کے ہر ضلعے کی مقدار برابر ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، ریاض چوتھی جماعت کے لیے، ١١٩ )
٢ - چوکور چیز جس کی لمبائی اور چوڑائی برابر ہو، چوگہشہ، چوپہل، چوکور شکل۔
"جب وہ جم جائے تو مربع یا مثلث ٹکڑے کاٹ لیں۔"      ( ١٩٤٤ء، ناشتر، ١٥ )
٣ - سولہ خانوں کا تعویذ۔
"پنڈت پربھاکر نے کاغذ پر ایک مربع بنا کر اس کے مختلف خانوں میں ستارے بٹھائ۔"      ( ١٩٨٩ء، قصے تیرے فسانے میرے، ١٠٣ )
٤ - چار زانو بیٹھنے کی نشست، چار زانوں بیٹھنا۔
"اس عبارت سلیس سے انشاطرازوں میں مربع بیٹھوں پھر کوئی کسر نہ رہے، کسی حیلہ پر حصر نہ رہے۔"      ( ١٨٨٠ء، طلسم فصاحت، ١٣ )
٥ - [ عروض ]  وہ بحر جس کے چار رکن ہوں۔
"عربی اشعار بوجہ کثرت حرکات عام طور پر مربع و مدس اوزان کے پابند ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، مقالات شیرانی، ٢٠٧:٨ )
٦ - وہ نظم جو چار چار مصرعوں کے بندوں کی شکل میں لکھی جائے، اس کے پہلے بند کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں بعد میں آنے والے ہر بند کے پہلے تین مصرع الگ قافیہ رکھتے ہیں یعنی آپس میں متحدہ القوافی ہوتے ہیں اور چوتھا مصرع بند اول کے ساتھ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ (کشاف تنقیدی اصطلاحات، 170)
"علاوہ غزلوں کے اقبال پر حسب ذیل نظم پڑھی، جو مربع کی شکل میں ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، سلہٹ میں اردو، ٢٢٣ )
٧ - [ کاشتکاری ]  زمین کا ایک قطعہ جو پانچ ایکڑ لمبا اور پانچ ایکڑ چوڑا ہو یعنی جس کا رقبہ 25 ایکڑ ہو۔
"اسی وفا داری کے صلے میں ان کو مربع ملے، جائیدادیں اور لمبرداریاں ملیں۔"      ( ١٩٧٨ء، جانگلوس، ٤٣٢ )
  • چوکور