بڑائی

( بَڑائی )
{ بَڑا + ای }
( سنسکرت )

تفصیلات


وڈ  بڑا  بَڑائی

سنسکرت کے اصل لفظ 'وڈ' سے ماخوذ اردو اسم صفت 'بڑا' کے آخر پر 'ا' ہونے کی وجہ سے 'ہمزہ زائد' لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'بڑائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : بَڑائِیاں [بَڑا + اِیاں]
جمع غیر ندائی   : بَڑائِیوں [بَڑا + اِیوں (و مجہول)]
١ - بڑا کا اسم کیفیت؛ برتری، زیادتی۔
'اپنی بڑائی و برتری کا کوئی برتاو مریدوں سے نہ کرتے تھے۔"      ( ١٩١٩ء، آپ بیتی، ٣ )
٢ - بڑا ہونے کا عمل۔
'کبھی بڑائی اور چھٹائی کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٣:١ )
٣ - تعریف کے وہ فقرے یا گیت جو مراسی یا شہدے ادا کرتے ہیں، (عموماً طورجمع مستعمل)۔
'شہدے اور بھاٹ بڑائیاں چڑھائیاں سناتے ہوئے ساتھ چل رہے ہیں۔"      ( ١٩٢٧ء، رسوم دہلی، ایس بیگم، ٣٤ )