اٹکا

( اَٹْکا )
{ اَٹ + کا }
( ہندی )

تفصیلات


ہندی زبان کے مصدر 'اٹکنا' سے حالیہ تمام ہے اور اردو میں بطور اسم صفت بھی مستعمل ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : اَٹْکی [اَٹ + کی]
واحد غیر ندائی   : اَٹْکے [اَٹ + کے]
جمع   : اَٹْکے [اَٹ + کے]
جمع غیر ندائی   : اَٹْکوں [اَٹ + کوں (و مجہول)]
١ - (لفظاً) اٹکا ہوا۔
٢ - [ جہاز رانی ]  زمین پر ٹکا ہوا، خشکی پر چڑھا ہوا، زمین گیر یا زمین گرفتہ جہاز، انگریزی میں aground کہتے ہیں۔ (انگلش اینڈ ہندوستانی ٹیکنیکل ٹرمز، 99)
١ - اٹکا بنیا سودا کرے / دے
جب تک غرض وابستہ نہ ہو انسان کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، مجبور ہو کر انسان کام کرتا ہے، جو آدمی کسی کام میں پھنس جاتا ہے وہ اسے چارو ناچار انجام دیتا ہے۔ دل ہی پر کیا جو چاہے لے ایسا اس نے گھیرا ہے اٹکا بنیا سودا دے یہ عشق میں حال اب میرا ہے      ( ١٩٢٥ء، شوق، دیوان، ١٦٢ )
  • stopped
  • hindered;  detained;  entangled;  stuck;  aground