تحصیل

( تَحْصِیل )
{ تَح + صِیل }
( عربی )

تفصیلات


حصل  تَحْصِیل

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٠ء کو 'معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مؤنث - واحد )
١ - حاصل کرنا،وصول کرنا، وصولیت۔
'اور پھر ان کو تجرید، تحصیل اور ترکیب دے کر نتائج کا استنباط کرتی ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ١٥٣:٥ )
٢ - جمع کرنا، اکٹھا کرنا۔
'تحصیل خراج وغیرہ کے علاوہ ان عمال کا سب سے مقدم فرض - فرائض کی تعلیم تھی۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٨:٢ )
٣ - علم سیکھنا، اکتساب۔
'جب تحصیل پوری ہو گئی تو - کل کتابیں کوئیں میں ڈال دیں۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٢٠ )
٤ - خراج، محصول، مالگزاری؛ آمدنی۔
'یہ میری بیس برس کی تحصیل لٹنے جاتی ہے۔"      ( ١٩٤١ء، لڑائی کا گھر، ١٣ )
٥ - تحصیل دار کی کچہری یا دفتر۔
'محصل نے جو اس گاؤں میں آیا ہوا تھا تحصیل کا چپراسی اسے بلانے کو بھیجا۔"      ( ١٩٠٠ء، بست سالہ عہد حکومت، ٣٦٧ )
٦ - تحصیلدار کا علاقہ، تعلقہ۔
'سرکار نے رعایا کی تعلیم پر ازبس توجہ اور التفات کر کے تحصیلوں میں مکتب مقرر کئے ہیں۔"      ( ١٨٦٩ء، انشائے خرد افروز، ١١ )
  • getting
  • acquiring;  collecting;  gain
  • acquisition
  • profit;  learning;  collection (particularly of revenues or rents);  the revenue jurisdiction of a tahsil-dar