تصور

( تَصَوُّر )
{ تَصَوْ + وُر }
( عربی )

تفصیلات


صور  تَصَوُّر

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت
١ - ذہن میں کسی شے کی صورت قائم کرنا، دھیان، خیال۔
 پری پیکر وہ گھوڑے ان کی چالاکی کا کیا کہنا نہیں آتی تصور میں بھی جن کی تیز رفتاری      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢ )
٢ - [ منطق ]  کسی شے کی صورت کا حکم کے بغیر ذہن میں آنا۔ وہ خیال جس پر کوئی حکم نہ لگایا گیا ہو۔
 تصدیق سے قریں ہو کیونکر ترا تصور اک لفظ بے صدا ہے اک نفش بے نگیں ہے      ( ١٩٣١ء، اکبر، کلیات، ٢١٣:١ )
٣ - نقشہ، خاکہ؛ منصوبہ۔
"سلطنت کا جو تصور ہمارے ذہن میں ہے اس میں یہ بات شامل ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، ارتقائے نظم حکومت یورپ، ٣٠ )
٤ - مراقبہ؛ فکر، سوچ، سوجھ۔ (ماخوذ؛ نوراللغات)
  • imaging or picturing (a thing) to the mind;  imagination
  • fancy;  reflection
  • contemplation
  • meditation;  forming an idea;  idea
  • conception
  • perception
  • apprehension