احسان

( اِحْسان )
{ اِح (کسرہ ا مجہول) + سان }
( عربی )

تفصیلات


حسن  اِحْسان

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء، کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
جمع   : اِحْسانات [اِح + سا + نات]
جمع غیر ندائی   : اِحْسانوں [اِح + سا + نوں (و مجہول)]
١ - (کسی کے ساتھ) نیکی کا عمل، اچھا سلوک، مہربانی کا برتاؤ۔
"غربا فقرا پر احسان بہت سے کیے۔"      ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ٢٨٩ )
٢ - اچھے سلوک کا بار (جسے سلوک کرنے والا یا وہ شخص جس کے ساتھ سلوک کیا گیا، محسوس کرے)۔
"اردو شاعری پر ان کا بڑا احسان ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٩٩ )
٣ - نیکی، عمل خیر۔
"اس نے پھر دریافت کیا کہ 'احسان کس کو کہتے ہیں' ارشاد ہوا کہ خدا کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٠٤:٢ )
٤ - (اچھا سلوک کیے جانے پر) شکریہ، شکر، ممنونیت کا اعتراف۔
 محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا سیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کا      ( ١٨٦١ء، دیوان ناظم (نواب یوسف علی)، ١ )
٥ - [ تصوف ]  نور بصیرت سے حق کا مشاہدہ، صفات کے پردے میں ذات باری تعالٰی کا دیدار، مشاہدہ صفائیہ جس کو عین الیقین کہتے ہیں۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 26)
  • اِمْتِنان
  • مَرَوَّت
  • عَطْیَہ
١ - اِحْسان اترنا
سلوک کے بدلے خود بھی سلوک کرنا۔"ان کے گھر شادی ہو گی تو ہم بھی ان کا احسان اتار دیں گے۔"      ( ١٨٩٦ء، امیراللغات، ٨٩:٢ )
٢ - اِحسان اتارنا
احسان اتارنا سے فعل لازم۔"تھوڑا سا روپیہ خرچ ہو گیا تو بلا سے، اوچھے کا احسان تو اتر گیا۔"      ( ١٩١٠ء، دیباچہ، مکاتیب امیر، ١٠٥ )
٣ - اِحسان اٹھانا
کسی کے نیک سلوک کا بوجھ اپنے سر لینا، زیر بار منت ہونا۔ اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر      ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ١٩٨ )
٤ - اِحسان اٹھنا
احسان اٹھانا سے فعل لازم۔ کیا جو کہنے سے کسی کے وہ بنے دوست جلال کسی دشمن کا نہ اٹھے گا یہ احساں ہم سے      ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ١٦٠ )
٥ - اِحسان جتانا
(اپنی بڑائی دکھانے کے لیے) سلوک کر کے اس کا اظہار کرنا، اظہار احساں۔"میرے رفیق کی پڑھائی کا احسان نہ جتایا کیجیے۔"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٠٥ )
٦ - اِحسان دھرنا
کسی کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ قاتل کے ہاتھ سے نہ سبکدوش ہم ہوے سر تیغ سے اتار کے احسان دھر گیا      ( ١٩١٥ء، جان سخن، ١٤ )
٧ - اِحسان رکھنا
احسان کرنا، نیکی کرنا، کسی کے ساتھ سلوک کرنا۔"اگر سب کسی درویش کو دیتے اس پر احسان نہ رکھتے۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٧ )
٨ - اِحسان ماننا
شکرگزار ہونا، ممنون ہونا۔ آئی مشکل میں ہمارے کام تو آئی یہی مانتے ہیں آپ کی تلوار کا احسان ہم      ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ٢١٦ )
٩ - احسان ہونا
باعث شکرگزاری ہونا۔ اے اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے و لے آج آتی شب فرقت میں تو احسان ہوتا
١ - اِحسان ہے
خدا کا شکر ہے۔ (فرہنگ اثر، ١٣٧)
١ - اِحسان لیجیے جہان کا نہ لیجیے شاہجہان کا
اپنوں سے غیروں کا احسان لینا بہتر ہے (خزینۃ الامثال، ٤٠، نجم الامثال، ٤٦)
  • doing that which is good;  beneficence
  • benefaction
  • benevolent action
  • benefit
  • favour
  • kindness
  • good offices
  • obligation conferred