آہستہ

( آہِسْتَہ )
{ آ + ہِس + تَہ }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں اصلی حالت میں ہی بطور متعلق فعل اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء میں ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر )
١ - ٹھہر ٹھہر کر چلتا ہوا، دھیما۔
 دیکھ رفتار انقلاب فراق کتنی آہستہ اور کتنی تیز      ( ١٩٥٩ء، گل نغمہ، فراق، ٤٧٣ )
متعلق فعل
١ - دھیمے سے، سہج سے، ٹھہر ٹھہر کر، حرکت بطی کے ساتھ، بتدریج، دھیرے دھیرے۔
 زلف آہستہ جھٹکیے مرا جی ڈرتا ہے دیکھیے ہاتھ کا جھٹکا نہ کمر تک پہنچے      ( ١٩٠٥ء، داغ (مہذب اللغات، ١٤٣:٢) )
٢ - نرمی سے، ملایمت سے، حلم سے، دھیمے لہجے میں۔
 سرھانے میر کے آہستہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٤٩ )
٣ - چھپ کر، پوشیدہ، چپکے سے۔
 پھر ایک نظر دیکھ کے فرزند نبی کو آہستہ چلے تانہ سکینہ کو خبر ہو      ( ١٩٠٣ء، مرثیہ بزم اکبر آبادی، ١١ )
٤ - کاہلی سے، مٹھے پن سے۔
"نوکر کے انتخاب میں دیانت داری اور اخلاق کی معلومات بہم پہنچانے کے بعد یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ٹالتا تو نہیں، کام تو آہستہ نہیں کرتا۔"      ( ١٩٥٢ء، سہ روزہ 'مُراد' خیرپور، ٤ اپریل، ٢ )