خطوط

( خُطُوط )
{ خُطُوط }
( عربی )

تفصیلات


خطط  خَط  خُطُوط

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خط' کی جمع 'خطوط' اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٠٧ء میں "کلیات ولی" می مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - جمع )
واحد   : خَط [خَط]
١ - خط کی جمع، لکیریں، سطریں (تراکیب میں مستعمل)۔
"اس سے خطوط و دوائرو سطوح و اجسام مختلفہ کی تقسیم آسانی سے ہو جاتی ہے۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ٨٤ )
٢ - دنیا کے نقشے پر کھینچے گیے فرضی خطوط یا لکیریں۔
"وہ علاقے جو ان خطوط سے دور واقع ہوئے ہیں ان پر سورج کی شعاعیں عمودی پڑنے کے بجائے ترچھی پڑتی ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ٥٠ )
٣ - کوئی مقررہ قاعدہ طرز یا اصول، نہج۔
"ان خطوط (یعنی ہپناسس Hy٠pnosis ، عمل تنویم) پر کام کرنے والوں میں مشہور ترین نام فرائد. کا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ٣٢ )
٤ - طریقہ کار، انداز نظر، زاویہ نگاہ۔
"یہ کام نہایت منظم اور باقاعدہ خطوط پر جاری ہوا۔"      ( ١٩٨٥ء، روایت اور فن، ترجمہ، ١٠ )
٥ - رخ، کنارا، انداز۔
"بجلی پیدا کرنے والی نسیں یا پٹھے اس کے جسم کے دونوں طرف طولی خطوط پر ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ٧٠ )
٦ - پیشانی پر پڑنے والی لکیریں، چین جبیں۔
 آیا ہے نقل لینے ترے مکھ کتاب کی تار خطوط سبتی بنا سطر آفتاب      ( ١٧٠٧ء، کلیات ولی، ١٥٩ )
٧ - خدوخال، بناوٹ۔
 پھرتے ہیں ہوش پہ خط تنسیخ کی طرح اس جسم کے خطوس دل آوغیز ہی سہی      ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ٥٧ )
٨ - وہ تحریریں جو ایک شخص دوسرے کو اپنے حالات کے بارے میں لکھتا ہے، مراسلے، چٹھیاں، رقعات، مکاتیب۔
 مٹ جائے بدن کا جاں سے رشتہ آئیں گے خطوط پھر بھی گھر پر      ( ١٩٨١ء، علامتوں کے درمیاں، ١٦ )
٩ - دستاویزات، ملکیت نامے۔
"ان میں ضروری بعضے قاعدے اور خطوط و عرائض وغیرہ جن سے کچہریوں کے کام کی واقفیت اور خط و کتابت سے آگاہی ہو لکھ کر اس کو دو قسم پر تقسیم کیا۔"      ( ١٨٦٩ء، انشائے خرد افروز، ٢ )
١٠ - راستے، جادہ، روشیں، کیاریاں۔
 ہجوم لالہ و گل اور یہ بے شمار خطوط ہزار نقش ملے پر نہ مل سکا آدم      ( ١٩٥٥ء، دو نیم، ١٠٥ )
١١ - حدود، دائرہ اثر۔
"بھارت میں بود و باش، ہندوؤں سے میل جول، کثرت سے نو مسلموں کی اآمیزش نے بندی مسلمانوں پر بھی اثر ڈالا مگر اس کا دائرہ تمدن و معاشرت کے خطوط میں محدود تھا۔"      ( ١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ٤٥٤:١ )