بھاگ

( بھاگ )
{ بھاگ }
( سنسکرت )

تفصیلات


بھاگیہ  بھاگ

سنسکرت میں اصل لفظ 'بھاگیہ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بھاگ' مستعمل ہے اردو میں اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : بھاگوں [بھا + گوں (واؤ مجہول)]
١ - نصیب، قسمت، بخت۔
"اسے وہی کرنا پڑا جو عورت کی حیثیت سے اس کے بھاگ میں لکھا تھا۔"      ( ١٩٥٢ء، آگ کا دریا، ١٢٨ )
٢ - اچھا نصیب، بخت خوب، خوش قسمتی، اقبال۔
"اگر بھاگ سے گھر بیٹھے ایسا برمل گیا تو گویا بنا جتن دل کی آرزو پوری ہوئی۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلا، اختر حسین، ٩٤ )
٣ - مانگ، پیشانی، ماتھا۔ شبد ساگر، 3636:7
٤ - روپیہ کا آدھا، اٹھنی۔ شبد ساگر، 3636:7
٥ - [ ریاضی ]  تقسیم، تقسیم کا عمل یا قاعدہ۔
"اگر کچھ باقی نہ رہے پورے پورے بھاگ ہو جاویں تو نہایت منحوس ہے۔"      ( ١٨٨٠ء کشاف النجوم، ١٠٢ )
٦ - حصہ، بخرہ؛ ورثہ۔
 گدی والے راجہ سے لے کر کملی والے منگتے تک بھاگ اپنی اپنی پرالبدھ کا ہر اک کو اس نے بانٹا      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٣٣٩ )
٧ - لگان، مزروعہ آراضی کا کرایہ، زرعی پیدوار کا محصول۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 27:6)
٨ - خوشی، مسرت۔
 تمام سامان بھاگ کے ہیں خوشی محبت کے لاگ کے ہیں سویار بن دن یہ آگ کے ہیں یہ ہوری جل جائے یار دیکھو      ( ١٨٦٥ء، کلیات ضامن، ١٠٧ )