اخلاص

( اِخْلاص )
{ اِخ + لاص }
( عربی )

تفصیلات


خلص  خُلُوص  اِخْلاص

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے "طوطی نامہ" میں ١٦٣٩ء کو مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - (دینی یا دنیوی عمل میں) بے لوثی، نیک نیتی، خلوص، غرض کے شائبے سے نیت کا پاک و صاف ہونا۔
"اخلاص کا انعام دنیا میں بھی نمازیوں کو مل گیا۔"      ( ١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاک و بھارت، ١٣٣:١ )
٢ - سچی دوستی، ربط ضبط، میل ملاپ۔
"ہمارے مخالفوں سے اس کا بہت اخلاص ہے۔"    ( ١٩٦١ء، ہالہ، اے آر خاتون، ٣٨٦ )
٣ - سچی محبت، لگن، عشق۔
 اک طرف مستغنی عالم ہے جان درد مند اک طرف دامن کشاں بچوں کا اخلاص اور پیار    ( ١٩٢٦ء، روح رواں، ٢٣ )
٤ - بے تکلفی یا بے حجابی کی باتیں، چھیڑ چھاڑ۔
"باہم پیار اور اخلاص کی باتیں ہو رہی تھیں۔"      ( ١٩٣٥ء، بیگمات شاہان اودھ، ٤١ )
٥ - سورہ قل ھو اللہ احد کا نام (بیشتر 'سورہ' کے ساتھ مستعمل)۔
 حاصل ولا سے منزلت خاص ہو گئی سورت میں شان سورت اخلاص ہو گئی      ( ١٩١٢ء، شمیم، بیاض (ق)، ٧ )
٦ - [ تصوف ]  ماسوی اللہ کی محبت اور خیال سے نیز شرک سے دل کا پاک و صاف ہونا۔ (انتباہ الطالبین، 16)
  • purity;  sincerity;  candour;  affection;  pure friendship
  • sincere attachment;  loyalty
  • fidelity;  intimacy.