صداقت

( صَداقَت )
{ صَدا + قَت }
( عربی )

تفصیلات


صدق  صَداقَت

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مؤنث - واحد )
جمع   : صَداقَتیں [صَدا + قَتیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : صَداقَتوں [صَدا + قَتوں (و مجہول)]
١ - سچائی؛ راست بازی؛ خلوص۔
"شروع ہی سے خلوص و صداقت کا گہوارہ ہوں۔"    ( ١٩٤٩ء، اک محشرِ خیال، ٨٧ )
٢ - حق ہونا، صادق ہونا۔
"اُس نے کہا، آپ کی صداقت کی شہادت کون دیتا ہے، آپۖ نے فرمایا سامنے کا یہ درخت۔"    ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٠:٣ )
٣ - تصدیق
 خود بھی حسن اور ان کی حدیثیں بھی سب حسن خود نام کررہا ہے صداقت حدیث کی    ( ١٨٩٥ء، دیوانِ راسخ دہلوی، ٣٠٨ )
٤ - گواہی، صداقت، ثبوت۔
"صداقت اُن کی یہ دی کہ ان کے گھوڑوں کے سموں پر انگریزی نمبر پڑے ہوئے ہیں۔"    ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستانِ غدر، ١٢٩ )
٥ - حقیقت، سچ۔
"سب سے بڑی صداقت یا حقیقیت انسان کی ذات ہے۔"      ( ١٩٥٨ء، ادب کلچر اور مسائل، ٤٦ )
  • Sincerity
  • candour;  friendship;  truth