سہولت

( سُہُولَت )
{ سُہُو + لَت }
( عربی )

تفصیلات


سہل  سُہُولَت

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : سُہُولَتیں [سُہُو + لَتیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : سُہُولَتوں [سُہُو + لَتوں (و مجہول)]
١ - آسانی، دشواری کا نقیض۔
"عربی میں میری کبھی بھی اتنی استعداد نہ تھی کہ میں عربی کی کتابیں سہولت سے پڑھ سکتا۔"      ( ١٩٨٥ء، حیاتِ جوہر، ١٣٦ )
٢ - نرمی، کفایت۔
"ہمارے پاک باطن نے آواز دی اے شہریار سہولت کو کام نہ فرمایئے۔"      ( ١٩٠٨ء، آفتابِ شجاعت، ٩٠٩:٥ )
٣ - آہستگی، تکلف اور تکان کے بغیر، اطمینان سے۔
"ہر صنفِ ادب میں اُن کا قلم سہولت اور روانی کے ساتھ چلتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری، شخصیت اور فکرو فن، ١٧٢ )
٤ - آہستگی، دِھیماپن۔
"ہرچند کہ تاریک نے بہ سہولت کہا مگر گنبد گونج گیا۔"      ( ١٨٩٢ء، طلسم ہوشربا، ١٩٤:٦ )
  • smoothness
  • plainness;  ease;  softness
  • gentleness
  • mildness