برق

( بَرْق )
{ بَرْق }
( عربی )

تفصیلات


برق  بَرْق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کا مصدر ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مؤنث - واحد )
جمع غیر ندائی   : بَرْقوں [بَر + قوں (واؤ مجہول)]
١ - تیز، پھرتیلا، شوخ، چالاک۔
'مہاراجہ الور - اپنے ہندو علوم کے علاوہ اردو فارسی میں بھی برق اور انگریزی میں بڑے خوش تقریر۔"      ( ١٩٥٦ء، محمد علی، ٢٠:٢ )
اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : بَرُوْق [بَرُوْق]
جمع غیر ندائی   : بَرْقوں [بَر + قوں (واؤ مجہول)]
١ - وہ شعلہ نما چمکیلی لہر جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے، بجلی، صاعقہ۔
 اہل دانش پر ہوے اسرار فطرت منکشف تابع انساں ہوئے برق و دخاں آب و ہوا      ( ١٩٣٨ء، نغمۂ فردوس، ١١٦:٢ )
٢ - چمک دمک۔
 اللہ رہے برق و شرق تری خاک راہ دوست ذرے بھی اپنی اپنی جگہ آفتاب ہیں      ( ١٩٢٧ء، شاد، بادۂ عرفاں، ١١٧ )
٣ - [ تصوف ]  وہ لمعان نور جو سالک کے دل پر وارد ہوتا ہے اور پھر پوشید ہو جاتا ہے اور وہی نور خود سالک کو سیر الی اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ (مصباح التعرف لارباب التصرف)