بندش

( بَنْدِش )
{ بَن + دِش }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان کے مصدر 'بستن' کا حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : بَندِشیں [بَن +دِشیں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : بَنْدِشوں [بَن + دِشوں (واؤ مجہول)]
١ - باندھنے یا بندھانے کا عمل، بندھائی۔
"اسباب کی بندش رات ہی سے شروع ہوگئی تھی۔"      ( ١٩٥١ء، سفر حجاز، ٧٠ )
٢ - کساؤ، گرفت، پکڑ۔
"زمانے کے ہزاروں انقلابات کے ساتھ بھی اس کی بندشیں اب تک کمزور نہیں ہوئیں۔"    ( ١٩١١ء، مقالات شبلی، ١٥٢:٣ )
٣ - [ استعارۃ ] جکڑ کر باندھنے کا عمل، جکڑاؤ۔
"چونکہ میری طبیعت ابتدا سے تحقیقات کی طرف مائل ہے اس لیے تقلید کی بندش ٹوٹ گئی۔"    ( ١٩٠١ء الغزالی، ٢٠ )
٤ - شعر یا جملے کے الفاظ کا درو بست، (کسی مضمون یا خیال کی) لفظوں میں ادائیگی۔
"اس کے اشعار کی بندش کچھ بھی پسند نہ آئی۔"      ( ١٩٢٤ء، مکاتیب اقبال، ١٢٦:١ )
٥ - مناہی، روک ٹوک، ممانعت۔
"بادشاہ تغلق نے عداوت سے تیل کی بندش کر دی تھی کہ سلطان جی صاحب کو کوئی شخص تیل نہ دے۔"      ( ١٩٢١ء، میر دہلی کی معلومات، ٣٢ )
٦ - پابندی، قید، بیڑیی۔
"قانون شریعت اور قانون سلطنت کی تمام باریکیاں اور بندشیں کاغذ میں آجائیں۔"      ( ١٩٢١ء، اولاد کی شادی، ٤١ )
٧ - (گھڑا ہوا) الزام، تہمت، بہتان۔
"یہ تہمت ہے اور صاف بندش ہے، تم کیسی ماں ہو کہ بیٹی کو عیب لگاتی ہو۔"      ( ١٨٠٣ء، گل بکاؤلی، نہال چند، ٨٤ )
٨ - سازش، منصوبہ بندی۔
"یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٢٣ )
٩ - [ کشتی اور حرب و ضرب ]  داؤ پیچ (جس سے حریف کو بے بس کر دیا جائے)۔
 بندشیں کس کی کہاں کے جور اور کیسی اکھاڑ نام بھی سیدھا زبانوں پر نہ تھا ہر پیچ کا      ( ١٩٠٧ء، رموز فن کشتی، ١٣٩ )
١٠ - [ معماری ] ہرر دے کی اینٹوں یا پتھروں کو ملا کر رکھنے اور جوڑنے کی کیفیت۔ (رسالہ رڑکی چنائی، 4
١١ - کسی گہرائی (جیسے کنواں، تالاب، نہر، گڑھا وغیرہ) کی چو طرفہ دیواروں کو گرنے سے روکنے کے لیے پتھر وغیرہ کی پختہ دیوار، پشتہ۔
"باولی بندش کی دیواریں ١٥ فٹ بلند ہیں۔"١٩٧٦ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ١٥ اپریل، ٣
١٢ - [ جراحیات ]  زخم وغیرہ کی مرہم پٹی۔
"اس کے زخم کی بندش حجازی کھجور کے پتے سے ہوسکتی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارہ دل، ٣١:١ )
١٣ - [ نگ سازی ]  نگ کے مصنوعی کور کنارے اور پہل تیار کرنے کا عمل۔ (اطلاحات پیشہ وراں، 51)
١٤ - [ موسیقی ]  راگ اور سر وغیرہ کی ترتیب، راگ بنانے یا تصنیف کرنے کا عمل۔
"'خیالوں' کی بندش کا سلسلہ غدر کے زمانے تک بدستور قائم رہا۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٣٦ )
١٥ - وہ مادی یا ذہنی رابطہ جو مختلف چیزوں یا ایک ہی چیز کے مختلف اجزا کی پیوستگی کے لیے کیا جائے، انجماد کا عمل، جماؤ۔
"مٹی میں بندش کے لیے. قدیم مصری. بھوسا استعمال کرتے تھے۔"      ( ١٩٤٠ء مکالمات سائنس، ٢٥٠ )