گانٹھ

( گانْٹھ )
{ گانْٹھ (ن غنہ) }
( سنسکرت )

تفصیلات


گرنتھ  گانْٹھ

سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'گرنتھ' سے ماخوذ اردو میں 'گانٹھ' مستعمل ہے۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : گانْٹھیں [گان (ن غنہ) + ٹھیں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : گانْٹھوں [گان (ن غنہ) + ٹھوں (واؤ مجہول)]
١ - دھاگے، ڈوری اور رسی وغیرہ کو بل دے کر بنایا ہوا بندھن یا حلقہ جو کسا جا سکتا ہو گرہ، بند، عقدہ۔
"اب وہ جس دھاگے کے چھوتی، گانٹھ بن جاتا وہ، دھیرے دھیرے وہ اونچا اٹھتا گیا، ایک ماورائی طاقت کی طرح ہر طرف بکھر گیا۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١١ )
٢ - گٹھٹر، پارسل، گٹھا، بنڈل۔
"تینوں سے ریشہ . گانٹھوں کی شکل میں منڈی کو روانہ کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٢٧٠ )
٣ - ان بن، عداوت، کشیدگی۔
 موبمو دل میں گانٹھ رکھتی ہے زلف بے وجہ آنٹھ رکھتی ہے      ( ١٨٣٨ء، نصیر دہلوی (فرہنگِ آصفیہ) )
٤ - ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی گرہ، جوڑ۔
"ہر انگلی میں ایک گانٹھ بہت ہی خار دار ہے۔"      ( ١٨٤١ء، مقاصد علوم، ٩٣ )
٥ - گنے یا مکئی کے تنے کی پور یا گرہ۔
"جوار کا پودا ایک سالہ ہوتا ہے . ہر ایک گانٹھ پر ایک پتا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، چارے، ٩٨ )
٦ - لکڑی کی گرہ۔
"جس لکڑی میں گانٹھ آر پار ہو وہ ردی ہے۔"      ( ١٩١٣ء، انجینئرنگ بک، ١١ )
٧ - سونٹھ یا ہلدی کی گانٹھ، ہلدی کی پور۔
"ہر شہر ہلدی کے پودے کی طرح ہے جس کی گانٹھیں زیر زمین پھیلتی جاتی ہیں۔"      ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٢٧ )
٨ - [ کنایۃ ]  بنا، بنیاد، جڑ، اصل سبب، علت۔
"بہو آئی تو فساد کی گانٹھ، لڑائی کی پوٹ۔      ( ١٨٦٨ء، مرآۃ العروس، ٢٩٣ )
٩ - غدود، گلٹی۔
"عقاب میں . وہ گانٹھ جہاں سے رگ بصارت نکلتی ہے کل دماغ کی ایک تہائی کے برابر ہوتی ہے۔"      ( ١٨٩٥ء، فرینالوجی، ١٤ )
١٠ - عہدوپیمان، قول و قرار، باہمی معاہدہ۔ (فرہنگ آصفیہ، نوراللغات)
١١ - گٹھلی کا گودا۔ (پلیٹس، جامع اللغات)
١٢ - ناف۔ (فرہنگِ آصیفہ)
١٣ - مشکل وقت، وہ محدود چار خانہ جسے عورتیں لکڑی کے اڈے پر چڑھا کر طرح طرح کے کشیدے کاڑھتی ہیں، سازش، اتفاق، بیاہ، شادی۔ (ماخوذ: جامع اللغات)
١٤ - جیب، کیسہ، بٹوا، ذاتی ملکیت یا قبضہ۔
"مگر اسکول کھولنے کے لیے گانٹھ میں رقم ہونا بنیادی شرط ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١٦٣ )
١٥ - سدہ، جیسے "پیٹ میں گانٹھیں ہیں۔" (فرہنگِ آصفیہ)
١٦ - [ ٹھگی ]  پھانسی کے رو مال کی گرہ۔ (مصطلحات ٹھگی، 131)
١ - گانٹھ باندھنا
گرہ لگانا، یاد رکھنا، خیال رکھنا۔"کبھی تمہیں کچھ کہہ اٹھتا ہوں تو کیا گانٹھ باندھ لیتی ہوں"      ( ١٩٤٣ء، ضدی، ٧٥۔ )
قبضے میں لینا، جیب میں ڈالنا، ہتھیانا۔"چھوٹے بھیا. اپنے آبائی قصبے کو کسی گاہک کے ہاتھ بیچ کر جو رقم آئے گانٹھ باندھنے کا منصوبہ بنایا"      ( ١٩٨٣ء، اردو ڈائجسٹ، لاہور، مئی ٢١٣۔ )
[ گھوڑا سواری  ]  جوڑا لگانا، عقد باندھنا، مناکحت کرنا، ازدواج کرنا، باہم عہدوپیمان کرنا۔ (فرہنگ آصفیہ)
٢ - گانٹھ بندھنا
عقید ہونا، بیاہ ہونا۔"پشپا نے جوش کے ساتھ کہا حق تو اسی لمحے ہو گیا جب میری گانٹھ تم سے بندھی"      ( ١٩٩١ء، اردو، کراچی، اپریل تا جون، ٢٦۔ )
[ نیاتیات  ]  قبضے میں رہنا، محفوظ ہونا، خرچ نہ ہونا۔"اس رقم کے ذریعے ہلکے پھلکے اور ذرا کم مگر یقینی منافع والے کاروبار کا منصوبہ بنا چکے تھے جس سے رقم کی گانٹھ بھی بندھی رہتی اور گزراوقات کے لیے منافع ماہ بہ ماہ یا سہ ماہی ہاتھ میں آتا رہتا"      ( ١٩٧١ء، اردو، کراچی،٣، ٥٩:٤۔ )
٣ - گانٹھ (پڑنا | پڑ جانا)
گرہ لگنا یا لگ جانا، رکاوٹ پیدا ہونا۔ رحمٰن ڈور جو پیار کی ہے یہ دیکھ نہ ٹوٹنے پائے ٹوٹے تو پھر جڑ نہیں سکتی گانٹھ پڑی رہ جائے      ( ١٩٨٥ء، درپن درپن، ٩٣۔ )
ان بن ہو جانا، دشمنی ہو جانا۔"دونوں میں کوئی گانٹھ پڑ گئی ہے نہ وہ سنی کی پروا کرتا ہے اور نہ سنی اس کی پروا کرتی ہے"      ( ١٩٣٦ء۔ پریم چند، واردات، ٥٦۔ )
ملائم کھانے کا پکتے پکتے بستہ ہو جانا، پھٹکی پڑنا، گٹھلیاں بن جانا۔"دلیے میں گانٹھیں پڑ گئیں"      ( ١٩٠١ء، فرہنگ آصفیہ، ٦:٤۔ )