بناوٹ

( بَناوَٹ )
{ بَنا + وَٹ }
( سنسکرت )

تفصیلات


ورٹ  بَنْنا  بَناوَٹ

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بننا' سے مشتق حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٩٨ء میں میر سوز کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : بَناوَٹیں [بَنا + وَٹیں (پائے مجھہول)]
جمع غیر ندائی   : بَناوَٹوں [بَنا + وَٹوں (واؤ مجہول)]
١ - ساخت، وضع قطع، تراش خراش۔
"اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں کی اور زمین کی بناوٹ اور تمہاری بولیوں اور رنگوں کی بوقلمونی ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٦٧:٤ )
٢ - بنانے سنوارنے کا عمل، مانگ پٹی کرنے اور مسی سرمہ لگانے کی کیفیت۔
 دل فریبی نہیں ہوتی ہے بناوٹ سے کبھی دل لبھانے کا اک انداز جدا ہو گا      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٢٢٥ )
٣ - تصنع، تکلف، دکھاوا، نمائش، ظاہر داری
 اصل اللہ سے لگاوٹ ہے ورنہ مذہب میں سب بناوٹ ہے      ( ١٩١٨ء، کلیات اکبر، ٢٩٩:٣ )
٤ - خلاف بیانی، جھوٹ، مکروفریب، سخن سازی۔
"ان کی کوئی بات بناوٹ ساختگی اور آورد سے خالی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩١٤ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ٣٢ )
٥ - صنعت، کاریگری۔
"ہندوستانی دستکاروں کی بنائی ہوئی چیزوں کی . خوبصورتی اور بناوٹ کی بڑی تعریف ہوتی تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، گھریلو صنعتیں، ٥٣ )
٦ - تشکیل۔
"صرف قوم کی رائے، نیابت اور انتخاب سے اس کی بناوٹ ہوتی تھی۔"      ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، آزاد، ٩٣ )
٧ - سدھار، اصلاح، مصالحت کی صورت، یا تدبیر۔
 بگڑے تو کسی سے نہ بنے کوئی بناوٹ محشر تھا ملاپ اس کا، قیامت تھی رکاوٹ      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ١٦٧:٧ )
  • make
  • structure
  • construction
  • build
  • formation
  • composition
  • manufacture
  • workmanship
  • work;  frame
  • form
  • fashion
  • figure
  • shape
  • mould
  • formation
  • appearance;  fabrication
  • invention
  • contrivance
  • art
  • artifice
  • affection;  fiction
  • shame
  • pretence forgery
  • counterfeit;  show
  • display
  • embellishment
  • get up;  weaving
  • knitting
  • texture