باقی

( باقی )
{ با + قی }
( عربی )

تفصیلات


بقی  باقی

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے اسم فاعل مشتق ہے۔ اردو میں عربی زبان سے ماخوذ اور بطور اسم صفت گاہے بطور اسم اور کبھی بطور متعلق فعل بھی مستعمل ملتا ہے۔ ١٥٥٢ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )
جمع   : باقِیات [با + قِیات]
جمع غیر ندائی   : باقِیوں [با + قِیوں (و مجہول)]
١ - بچا کھچا یا رہا سہا سامان شخص یا شے وغیرہ، اور، کوئی اور۔
"بیوی چمک کر بولیں اچھا تو پھر یہ باقی کہاں چلے گئے۔"      ( ١٩٥٤ء، پیرنابالغ، ٤٥ )
٢ - [ حساب ]  عمل تفریق میں بچا ہوا عدد۔
"پھر اگر باقیین (دونوں باقی عدد) گیارہ اور پانچ - اس عدد اقل میں جمع کر دیں عدد اکثر حاصل ہو جائے گا۔"      ( ١٩٢٦ء، اورینٹل کالج میگزین، مئی، ٢٢ )
٣ - خدائے تعالٰی کا صفاتی نام۔
 جو باقی یاد باقی میں گزرتی ہے تو عقبٰی میں شفاعت ان کی کرتی      ( ١٨٦٦ء، تیغ فقیر بر گردن شریر، ٣٨ )
٤ - واجب الادا رقم؛ استعارۃً۔
"پچھلی باقی اکثر معاف کر دی۔"      ( ١٩١٣ء، چھلاوا، ٦ )
صفت ذاتی ( واحد )
جمع   : باقِیات [با + قِیات]
جمع غیر ندائی   : باقِیوں [با + قِیوں (و مجہول)]
١ - موجود، برقرار، قائم۔
 نام لیوا ان کے ہم زیر فلک باقی تو ہیں مٹتے مٹتے بھی جہاں میں آج تک باقی تو ہیں      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ٤٩ )
٢ - دائم، ہمیشہ رہنے والا، غیر فانی، فانی کی ضد۔
 مر کر جو حق کی راہ میں جینا سکھا دیا فانی کو کائنات میں باقی بنا دیا      ( ١٩٥٣ء، مراثی نسیم، ٣٩١:٣ )
٣ - بچا ہوا، رہا ہوا۔
 سالار نہ لشکر نہ علمدار ہے باقی مارے گئے سب اک یہی بیمار ہے باقی      ( ١٩٧٥ء، رواں واسطی، مرثیہ، ٨ )
متعلق فعل
١ - اس کے علاوہ، اس سے مزید۔
 محبت ہے سرمایۂ زندگانی حقیقت بس اتنی ہے باقی کہانی      ( ١٩٤٢ء، نوبہاراں، اثر، ٥٦ )
١ - باقی گرانا
حساب کتاب کر کے کسی کے ذمے واجب الادا رقم نکالنا۔"مال گزاری سرکاری میں اس نے عمداً باقی گرا کر تین ہزار بچپ کا ایک موضع نیلام کروا دیا"      ( ١٩٢٢ء، شاد کی کہانی، شاد کی زبانی، ٢٤٦۔ )
١ - باقی نام اللّٰہ کا
سوائے ذات باری کے کسی کو ثبوت نہیں عموماً دنیا کی بے ثباتی ظاہر کرنے کے موقع پر مستعمل۔ (ماخوذ: نجم الامثال،٨٧)
١ - باقی کا مارا گاءوں چلموں کا مارا چولھا اور اولوں کا مارا کھیت پنپتا ہی نہیں
جس گاءوں کے لوگوں پر لگان باقی رہ جائے یا جس چولھے سے بار بار آگ نکالی جائے یا جس کھیت پر اولے پڑ جائیں وہ کبھی اچھی حالت میں نہیں رہتے۔ (جامع اللغات، ٢٨:١؛ نجم الامثال، ٨٧)