آرزو

( آرْزُو )
{ آر + زُو }
( فارسی )

تفصیلات


یہ اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اسم جامد ہے۔ اردو میں اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٤٣ء میں قلمی نسخہ "بھوگ بھل" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
واحد ندائی   : آرْزُو [آر + زُو]
جمع   : آرْزُوئیں [آر + زُو + ایں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : آرْزُوؤں [آر + زُو + اوں (و مجہول)]
١ - تمنا، ارمان، اشتیاق۔
"ورقہ نے آرزو ظاہر کی کہ کاش میں آپ کی ہجرت تک رہتا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٧٥٦:٣ )
٢ - منت سماجت، التجا، خوشامد درآمد۔
 لوگ آنکھوں پر بٹھاتے ہیں مجھے آرزوؤں سے بلاتے ہیں مجھے      ( ١٨٩٦ء، مثنوی امیدو بیم، ٧ )
٣ - [ تصوف ]  تھوڑی آگاہی کے ساتھ اپنی اصل کے طرف میل کرنا۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 32)
١ - آرزو بر آنا
حسرت نکلنا، مراد پوری ہونا۔"ہائے عشق کے کوچے میں کس کا خیال پورا ہوا ہے کس کی آرزو بر آئی ہے۔"      ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ١٠١ )
٢ - آرزو بر لانا
آرز بر آنا کا تعدیہ ہے۔ مطلب بیان کر کے یہ بیکس دعا کرے برلائیں آرزو تری، مولا خدا کرے      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ (قلمی نسخہ)، ١٩ )
٣ - آرزو بھرنا
تمنا پوری ہونا، حسرت نکلنا۔"میری آرزوئیں سب بھر چکیں ایک باقی ہے سو وہ تادم مرگ نہ جائے گی۔"      ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ١٨٠ )
٤ - آرزو پر پانی پھیرنا
مایوس کرنا۔ تمنا ہے بچشم مہربانی نہ پھیرو آرزو پر میری پانی      ( ١٨٦١ء، الف لیلہ نو منظوم، ٥٢٩:٢ )
٥ - آرزو پوری کرنا
آرزو پوری ہونا کا تعدیہ ہے۔"یہ قلعہ پر جا کر آئینے میں صورت دیکھ کر اپنی آرزو پوری کر کے چلا آیا۔"      ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٣٧ )
٦ - آرزو پوری ہونا
مراد پوری ہونا۔ خواہش مل جانا۔ لاءوں دلھن جو بیاہ کے یوسف جمال کے پوری ہو آرزو مری اٹھارہ سال کی      ( ١٩٦٥ء، منظور رائے پوری، مرثیہ، ٩ )
٧ - آرزو خاک میں ملانا
مایوس کرنا۔ منھ موڑ کر جو ماں سے چلے میرے ماہرو کیا خاک میں ملاءو گے دکھیا کی آرزو      ( ١٩٣٠ء، عروج، مرثیہ (قلمی نسخہ)، ٣١ )
٨ - آرزو خاک میں ملنا
آرزو خاک میں ملانا کا فعل لازم ہے۔ ہے یقیں یہ کہ خاک ہی میں ملے آرزوے وصال سیمیں بر      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ١٩٤ )
٩ - آرزو خاک ہونا
مایوس ہونا۔ سرمہ سا چشم تابناک ہوئی آرزوے نظارہ خاک ہوئی      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٢٤٤ )
١٠ - آرزو دل کی دِل (ہی) میں رہ جانا۔
ارمان نہ نکلنا، حسرت پوری نہ ہونا، مدعا حاصل نہ ہونا۔ دم نہ نکلا کسی کے زانو پر رہ گئی دل کی آرزو دل میں      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٥٣ )
١١ - آرزو رکھنا
تمنا کرنا، چاہنا، آرزو مند ہونا۔ سفر کے جانے کی کیونکر تمھیں اجازت دیں کہو یہ اوس سے جو رکھتا ہو آرزوے فراق      ( ١٨٥٤ء، دیوان صبا، غنچۂ آرزو، ٧٥ )
١٢ - آرزو رہ جانا
ارماں نہ نکلنا، مدعا حاصل نہ ہونا، مراد پوری نہ ہونا۔ آرزو رہ گئی اس کوچے میں پامالی کی دھوم ہی دھوم فقط چرخ جفاکار کی تھی      ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ١٦٩ )
١٣ - آرزو ساتھ لے جانا
مرتے دم تک ارمان نہ نکلنا، زندگی بھر مراد پوری نہ ہونا۔ (ماخوذ : مہذب اللغات، ٣٥:٢)
١٤ - آرزو کا خون ہونا
مایوسی ہونا۔ (ماخوذ : امیراللغات، ٩٠:١، مہذب اللغات، ٣٥:٢)
١٥ - آرزو کو پہنچنا
مراد بر آنا۔ میں کہا اے نفس میں پہنچا ابھی آرزو کو تو نہ پہنچے گا کبھی      ( ١٧٩١ء، ریاض العارفین، ٢٣ )
١٦ - آرزو لے جانا
 اور کیا دنیا سے ہم بے گانہ خو لے جائینگے ایک ترک آرزو کی آرزو لے جائینگے      ( ١٨٥٤ء، دیوان اسیر، ریاض مصنف، ٣٧١ )
١٧ - آرزو مرنا
آرزو مٹنا۔ وصال کی شب گزر گئی ہے جو آرزو تھی وہ مر گئی ہے ہمیں تو ہچکی لگی ہوئی ہے وہ فکر میں ہیں کہ گھر کو چلیے      ( ١٩٢٤ء، شرف (نوراللغات، ٩١:١) )
١٨ - آرزو ملنا
دلی خواہش یا تمنا کا حسب مراد حاصل ہونا۔ رندوں کو بزم ہو جو بصد جستجو ملی مطلب ملا مراد ملی آرزو ملی      ( ١٩٤١ء، مراثی نسیم، ٩٩:٣ )
١٩ - آرزو منّت کرنا
خوشامد کرنا، خوشامد درآمد کر کے کچھ مانگنا۔"فوراً کام شروع ہو گیا . مزدور نکل آئے پیسے نکل آئے، کسی سے آرزو منت نہ کرنا پڑی۔"      ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٩٧ )
٢٠ - آرزو نکالنا
ارمان پورا کرنا۔ نکالتا نہیں اے عشق آرزو میری اسے بھی جان ہی کیا جانتا ہے تو میری      ( ١٩٠٣ء، دیوان جلال، نظم نگاریں، ١٢٦ )
کسی کا مقصد برلانا، جیسے : جو کوئی کسی کی آرزو نکالے خدا اس کی بھی مراد پوری کرے۔ (بابائے اردو، لغت کبیر، ٢٧:١)
٢١ - آرزو نکلنا
آرزو نکالنا کا فعل لازم ہے۔ حریم ناز سے چیں برچیں جو تو نکلے گلے سے تیغ ملے دل کی آرزو نکلے      ( ١٩٦٧ء، حکیم اشرف دہلوی، دیوان (قلمی نسخہ)، ٩٨ )