برابر

( بَرابَر )
{ بَرا + بَر }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت میں ہی بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء میں قطب مشتری میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - ایک سا، یکساں، کسی بات میں دوسرے سے کم نہ زیادہ (جسامت وزن مقدار عدد فاصلے صفت اہمیت مال و دولت مزے رسوخ تاثیر یا قدر و منزلت وغیرہ میں سے کسی ایک بات میں)۔
 وہ کہتے ہیں ہمارے قد سے نسبت کیا قیامت کو نہ وہ اس کے برابر ہے نہ وہ اس کے برابر کی      ( ١٩٣٩ء، شعاع مہر، ١١٣ )
٢ - مطابق۔
'شمس الدین نے اپنی شادی اور لڑکی پیدا ہونے کی تاریخ جو ملائی برابر پائی۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ١١٥:١ )
٣ - ہموار، مسطح، سپاٹ، چورس۔
'تاوقتیکہ یہ سارا حصہ برابر نہ کر دیا جائے - زمین کے نشیب و فراز کا دھبہ مٹنا بالکل محال ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرات نیاز، ١٢٦ )
٤ - بقدر۔
'آسمان صاف تھا نیلاہٹ پر کہیں ہتھیلی برابر دھبہ نہیں تھا۔"      ( ١٩٤٦ء، آگ، ٧ )
٥ - نصفا نصفی، آدھوں آدھ۔
 دشنہ رقیب کو مجھے خنجر لگایئے حصے لگایئے تو برابر لگایئے      ( ١٨٥٤ء، ریاض مصنف، ٣٩٩ )
٦ - ختم، برباد، ضائع۔
 اڑائی دولت غم دل نے روز ہجر سے پہلے جو باقی رہ گئی تھی اب وہ کھا پی کر برابر کی      ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ١١٣ )
٧ - ہم عمر، ہم سن۔
 شہ بولے کلیجے کا مرے درد وہ جانے جس کا کہ پسر قتل ہو اکبر کے برابر      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ١٤٨:١٦ )
٨ - پورا، ایفا۔
 کب تلک ہو گا برابر میرا وعدہ دیکھیے موت کب تک کرتی ہے امروز فردا دیکھیے      ( ١٨٤٣ء، دیوان رند، ٣٠٢:٢ )
٩ - مثل، طرح، مانند۔
 خاک نکلے مرے ارماں جو مر کر نکلے نکلے پھر بھی نہ نکلے کے برابر نکلے      ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ١٣٩ )
١٠ - پاس، قریب، متصل، ملا ہوا۔
"امی جان کے ساتھ ساتھ گیا اور اندر جا کر ان کے برابر بیٹھا تو طاہرہ بیگم نے ہاتھ پکڑ کے اپنے برابر بٹھا لیا۔"      ( ١٩٢٣ء، طاہرہ، شرر، ١٣ )
١١ - مقابل، سامنے۔
 تو حور کی تعریف اگر کرتا ہے زاہد لا اس کو مرے حور شمائل کے برابر      ( ١٩٠٧ء، انتخاب گرامی، ٥٨ )
١٢ - [ کھیل ]  ہار جیت کے فیصلے کے بغیر۔
'اعلان کر دیا گیا کہ دونوں ٹیمیں برابر رہیں، نہ کوئی ہارا اور نہ کوئی جیتا۔"      ( ١٩٣١ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ١٦، ٥:١٤ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - پاس پاس، پہلو بہ پہلو، دوش بدوش۔
 کیا ڈھونڈتا ہے بیٹوں کو میدان میں ارزق لاشے وہ سر خاک ہیں چاروں کے برابر      ( ١٩٢٩ء، مجموعۂ سلام، مولوی چاند، ١٧ )
٢ - مسلسل، لگاتار، پے در پے۔
'ان سب کو اس طرح ملا دیا گیا ہے کہ برابر ایک ہی قسم کے مضامین پڑھنے سے طبیعت اکتا نہ جائے۔"      ( ١٩٣٠ء، مضامین فرحت، ١:٣ )
٣ - بار بار، اکثر۔
 یہ لطف بادہ فروشاں ہے فاقہ مستی میں کئی برس سے برابر ادھار آتی ہے    ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ٢١٢ )
٤ - ہمیشہ، سدا، ہر وقت۔
'دولت خاتون برابر سیف الملوک کی صورت، سیرت اور شہ سواری کی تعریف کرتی۔"    ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، منصور، ٦٢:٦ )
٥ - ساتھ ساتھ، اسی وقت۔
 یہ اداے خاص ہے تجھ ہی میں اے تصویر یار کوئی تجھ سے سیکھ لے سب کو برابر دیکھنا      ( ١٩١٩ء، کیفی، کیف سخن، ٤٧ )
٦ - ٹھیک، درست۔
'کس طرح معلوم پڑا کہ اس گھڑی نیت بادشاہ کی برابر نہیں۔"      ( ١٨٢٤ء، سید عشرت، ١٩ )
٧ - کلہ بہ کلہ، ترکی بہ ترکی۔
 ابکی کچھ منہ سے نکالا تو تمھیں جانو گے داغ پھر مجکو نہ کہنا جو برابر نہ کہوں      ( ١٨٨٤ء، آفتاب داغ، ٥٨ )
٨ - بے شک، ضرور، یقیناً، لازمی طور پر۔
'سودا وغیرہ نے 'چکّھا' کی جگہ 'چکھا' برابر نظم کیا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، چکبست، مضامین، ١٨٧ )
٩ - پوری طرح، اچھی طرح، کماحقہ۔
'بخار کا اصلی سبب ہنوز برابر ظاہر نہیں ہوا ہے۔"      ( ١٨٦٠ء، نسخۂ عمل طب، ٢٤ )
١٠ - بیباق۔
' آج تمھارا حساب برابر ہو گیا۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٠٣:١ )
١١ - نزدیک، پہلو میں۔
'دونوں پھوپھی بھتیجیاں برابر لیٹی سن رہی تھیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٦٦ )