پشت

( پُشْت )
{ پُشْت }
( فارسی )

تفصیلات


پُشت  پُشْت

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو خاورنامہ میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : پُشْتیں [پُش + تیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : پُشتوں [پُش + توں (و مجہول)]
١ - جسم کا پچھلا حصہ، شانوں سے لے کر ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے تک، پیٹھ۔
'آنحضرتۖ کی پشت پر جو مہرِ نبوت تھی، ابھری ہوئی تھی۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٧٩:٢ )
٢ - پچھلا حصہ یا رخ (کسی بھی چیز کا)
'وہ - بخوبی تمام دریا کے اوپر شباشب سرافراز خان کی فوجوں کی پشت پر آ رہا۔"      ( ١٨٠٣ء، حسن اختلاط، ٧ الف )
٣ - سہارا، مدد، حمایت، آسرا۔
'قومیں - اپنے تمام لشکر کی پشت پر جمادات یا حیوانات کی ایک مضبوط پشت قائم کرتی ہیں۔"      ( ١٩٠٤ء، مقدمہ ابن خلدون، ترجمہ، ١٧٩:٢ )
٤ - شجرہ نسب یا نسل کے سلسلے کی ہر کڑی دوسری کی نسبت سے (عالی ہو یا سافل)۔
'عدنان سے حضرت اسمٰعیل تک چالیس پشتوں کا فاصلہ ہے۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ١٥١:١ )
٥ - نسل، صلب۔
 قصی اور ہاشم ضاف اور شیبہ رہا پشت میں جن کی یہ دریکتا      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٢٥ )
٦ - غیبت، پیچھے۔ (فرہنگِ آصفیہ، 409:1)
٧ - دیوار یا کسی عمارت کا اندرونی رخ۔
'دیوار یا کسی عمارت کے اندرونی رخ کو پشت کہتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، چنائی، ٦ )
٨ - گانڈو۔ (جامع اللغات، 88:2)
  • flesh
  • meat;  nourished
  • nurtured
  • fed;  the back;  the outside;  support;  prop;  assistant;  second;  protector;  patron;  generation;  descent;  extraction;  ancestors;  progenitors