باز[2]

( باز[2] )
{ باز }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور فارسی سے اردو میں ماخوذ ہے بطور متعلق فعل اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ عام طور پر مرکبات میں بطور سابقہ مستعمل ہے جیسے بازیافت، باز پرس وغیرہ ١٦١١ء میں 'قلی قطب شاہ" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - کشادہ، کھلا ہوا۔
 باب نبرد باز امام زمن پہ ہے یلغر چھ لاکھ فوج کا ستر دو تن پہ ہے      ( ١٩٥١ء، آرزو، خمسۂ متحیرہ، ١١:٣ )
متعلق فعل
١ - پھر، دوبارہ، مکرر (عموماً ترکیبات میں مستعمل)۔
"دو مشتق زبانوں کی متبدلہ اصوات کا مقابلہ کر کے ماخذی زبان کی اصوات کی باز تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ١٣٢ )
١ - باز کرنا
کھولنا۔ وہ محمود محمود جس کا ایاز کیا حق نے جس پر درحسن باز      ( ١٨٤٦ء، قصۂ اگرگل، ٨ )
٢ - بازیافت کرنا
وصول کرنا، واپس لینا۔"میں قطب الملک کی سرحد پر اس لیے جاتا ہوں کہ اپنا زرمقررہ اس سے بازیافت کروں"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٩٠:٦ )
ضروری کمی کو پورا کرنا۔"اگر امرا تعداد مقرری سے ایک سپاہی کم رکھیں تو اہل دیوان اس کی بازیافت کریں"      ( ١٨٩٦ء، تاریخ ہندوستان، ٥٠٤:٤ )
٣ - باز آنا
دست بردار ہونا، کنارہ کش ہونا، بچنا، پرہیز کرنا، آیندہ کرنے سے توبہ کرنا۔ امید انتظار سے ہرگز نہ آئے باز ہم شوق لطف یار سے ہرگز نہ آئے باز      ( ١٩٢٣ء، کلیات حسرت موہانی، ٢١١۔ )
٤ - باز رکھنا
(کسی کام یا بات سے) دور رکھنا، بچانا، روکنا، منع کرنا۔"اسی خیال نے مجھے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے اب تک باز رکھا"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ٦۔ )
٥ - باز رہنا
بچے رہنا، بچنا، دور رہنا۔"دوسروں کو . منع کرتا ہو گا لیکن یہ ضرور نہیں کہ خود بھی اس سے باز رہتا ہو"      ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ١٤٠۔ )
کھلا رہنا۔ تمام شب درہمت جری پہ باز رہا دعائے صبح میں بالائے جا نماز رہا      ( ١٩٢٢ء، مرثیۂ بزم،٤ )
١ - باز آمدم برسر مطلب
اب میں پھر اصل موضوع کی طرف رجوع کرتا ہوں (دوران گفتگو کسی ضمنی بات یا جملۂ معترضہ کے بعد پھر اصل مضمون شروع کرنے کے موقع پر مستعمل)"یہ جملہ معترضہ تھا، بازآمدم برسر مطلب"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٣٣:١ )
  • thrown back;  open