نبض

( نَبْض )
{ نَبْض }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے بعینہ اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو"کلیات سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : نَبْضیں [نَب + ضیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : نَبْضوں [نَب + ضوں (و مجہول)]
١ - کلائی کی وہ رگ جو حرکت کرتی رہتی ہے، ناڑی، نیز (طب) رگ کی حرکت یا رفتار، شریان کی تڑپ یا دھڑکن (یعنی اس کا سکڑنا اور پھیلنا)
 ہوائیں مرے سانس کی نبض بن کر دھڑکتی ہیں اور تیز تر ہو رہی ہیں      ( ١٩٨١ء اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٧۔ )
٢ - [ طب ]  وہ مقام جہاں طبیب ہاتھ رکھ کر نبض دیک75ء، موجِ تبسم، 235۔
٣ - پیش گو، واقعاتِ آئندہ کی خبر دینے والا۔
"ایلیاہ نے اُن سے کہا، بعل کے نبیوں کو پکڑ لو، ان سے ایک بھی جانے نہ پائے"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٣٥٢۔ )
٤ - [ تصوف ]  مرشد کامل۔ (مصباح التعرف، 258)
  • The pule (syn. nari)