روپ

( رُوپ )
{ رُوپ }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٠٣ء میں "ابراہیم نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : رُوپوں [رُو + پوں (و مجہول)]
١ - شکل، صورت، ظاہری وضع قطع۔
"دوسری جدید آریائی زبانوں کی طرح سندھی کا موجودہ روپ بھی اسی زمانے میں انہی اثرات کی وجہ سے مشکل ہوا۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی لسانی روابط، ١٥ )
٢ - بھیس، کوئی اور شکل یا وضع قطع جو اصلی شکل سے مختلف ہو۔
"میری یاداشت واپس آئی تو میں نے اپنے آپ کو ایک فقیر کے روپ میں پایا۔"      ( ١٩٨٠ء، وارث، ٣٥٥ )
٣ - سوانگ ("بھرنا" کے ساتھ)۔
"میراثنیں گائینں ناچنے گانے لگیں بہروپنیاں اور نقالیاں بہروپ کا روپ بھر کر نقلوں کی اصلیں بنانے لگیں۔"      ( ١٨٤٥ء، حکایت سخن سنج، ٩ )
٤ - کردار، پارٹ۔
"جن تماشوں میں یہ شریک رہتے ہیں انہیں آفتاب سپیدۂ صبح کا افسانہ کہا جاتا ہے ان کے روپ (پارٹ) میں عشق و جنگ دونوں شریک ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، ویدک ہند، ١٤٨ )
٥ - رنگ، رنگت، چمک دمک، چہرہ کی شادابی۔
"اسلام کی نظر سب (لوگ) ایک خدا کے بندے میں . دولت و فقر، رنگ روپ اور نسل و قومیت کا کوئی امتیاز ان کو منقسم نہیں کرتا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٢٤:٤ )
٦ - جلوہ، جوت، پر تو۔
 سورج میں ہے تیرا روپ اور حسن سایہ تیرا ہے دھوپ اور حسن      ( ١٩٢٥ء، مثنوی حسن، شوق قدوائی، ١٩ )
٧ - منظر، سماں، عالم، حالت۔
"یہ شعر سراسر تمثیل کا انداز رکھتا ہے، مولٰنا نے صرف "فضائے تخلیق" کا روپ دیکھا "تخلیقی ماحول" کا سماں انکی گرفت میں نہ آسکا۔"      ( ١٩٦٤ء، غالب کون ہے، ١٦٨ )
٨ - آب و تاب، چمک دمک، رونق۔
 بے روپ جو مارے غم کے تھا رخ اترا ہوا دائرہ تھا یا رخ      ( ١٨٨٧ء، ترانۂ شوق، ١٣٠ )
٩ - حسین شکل، خوبصورتی، حسن، جمال، چھب۔
 روپ کی دھوپ یہ پرکاش انوپم پرتاب رینگتے ناگ، جواں شیر، لپکتے چیتے      ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٢٥٨ )
١٠ - طور، طرز، ڈھنگ، انداز۔
 پھیلتی دھوپ کا ہے روپ لڑکپن کی اٹھان دوپہر ڈھلتے ہی اترے گا یہ چڑھتا پانی      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٩٠ )
١١ - تصویر، مورت۔ (ماخوذ: فرہنگِ آصفیہ)
١٢ - ایک بات سے دوسری بات کی طرف پلٹا کھانا۔ (نوراللغات)
١٣ - افتادِ طبع، رنگِ مزاج۔ (مہذب اللغات)
١٤ - چاندی، نقرہ، سیم۔
 زر بود سنا و سیم و نقرہ روپ جامہ کپڑا ٹاٹ ٹیڑ دب کوپ      ( ١٦٢١ء، خالق باری، ٦٩ )
١ - روپ آنا
رونق آنا، آب و تاب آنا۔"کم بخت نے زندگی بھر میں آج سنگھار کیا ہے تو روپ کتنا آیا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٤٦ )
٢ - روپ بدلنا
طور بدلنا، ہیئت بدلنا، وضع قطع بدلنا، بھیس بدلنا۔"معمولی بات چیت اور سودا سلف کی بولی ادبی اور علمی زبان نہیں ہو سکتی خصوصاً جب وہ تحریر میں آ کر جھٹ اپنا روپ بدل لیتی ہے۔"      ( ١٩٣٣ء، خطبات عبدالحق، ١١ )
٣ - روپ بگڑنا
خوبصورتی جاتی رہنا، حسن کا زوال پذیر ہونا، بدصورت ہو جانا۔ روپ ہی بگڑ گیا شکل ہی بدل گئی وہ جوانی اب کہاں دوپہر سی ڈھل گئی      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، عالم خیال، ٣ )
٤ - روپ بھرنا
سوانگ بھرنا، بھیس بدلنا"میرے ڈرانے کے لیے یہ رُوپ بھرا۔"      ( ١٩٤٧ء، مضامین فرحت، ١٣٨:٦ )
شکل اختیار کرنا۔"خیالات یا ہواءی تصویریں بامعنی الفاظ کا روپ بھر کر زبان کا درجہ حاصل کر جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦١ء، تین ہندوستانی زبانیں، ٣٤ )
آراءش کرنا، بناءو سنگھار کرنا۔"میں اب نِت نئے سنگار کرتی، نِت نئے روپ بھرتی، محض اس لئے کہ کلب میں، میں ہی سب کی نگاہوں کا مرکز بن جاءوں۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ٣١:٢ )
٥ - روپ پھرنا
روپ بدل جانا۔ شکل رُوپ پھرنے نہ لاگی سوبار نہ تھا مرد جانو اوّل کی سو نار      ( ١٦٥٤ء، معراج نامہ، بلاقی(دکنی اردو لغت) )
٦ - روپ چڑھنا
حُسن کا نکھرنا، خوبصورتی میں اضافہ ہونا، حسین تر ہو جانا۔"ان کا زیور سب اُتار دیا جاتا ہے تاکہ شادی کے دن رُوپ چڑھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردونامہ، کراچی، ٨٩:٢٩ )
٧ - روپ دھارنا
صورت یا ہئیت کا بدل لینا، کسی شکل یا انداز میں نمودار ہونا، بھیس بدلنا۔ دیتا ہے کون دل کے کواڑوں پہ دستکیں یہ کون رُوپ دھار کے آیا ہواءوں کا      ( ١٩٧١ء، شیشے کے پیرہن، ١٩ )
جسمانی صُورت بدل کر ظاہر ہونا۔"اس دودھ کے جھاگوں سے تو میرے دیوتا نے روپ دھارا تھا۔"      ( ١٩٨١ء، چلتا مسافر، ١٠٤ )
٨ - روپ نکلنا
رنگ نکھرنا، نکھار آنا، آب و تاب ظاہر ہونا، صورت حسین ہونا۔ نہانے سے نکلا عجب اس کا رُوپ نکل آئے بدلی سے جس طرح دھوپ      ( ١٧٨٤ء، مثنوی سحرالبیان، ١٢٢ )
  • countenance
  • form
  • shape
  • figure
  • appearance
  • face
  • picture
  • beauty
  • manner
  • mode
  • method