تیز

( تیز )
{ تیز (ی مجہول) }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے اسم صفت ہے۔ اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
تقابلی حالت   : تیزتَر [تیز (ی مجہول) + تَر]
تفضیلی حالت   : تیز تَرِین [تیز (ی مجہول) + تَرِین]
١ - کاٹ کرنے والا، سان پر چڑھا ہوا، دھاردار، نوکدار، کند کی ضد۔
 تیغ ابرو کے اشارے میں ہے کام اپنا تمام تیز کرتا ہے چھری میرے لیے قاتل عبث      ( ١٨٣٤ء، دیوان رند، ٤٨:١ )
٢ - (ذائقے، کیفیت، مزاج یا اثر میں) بڑھا ہوا، تند، سخت، گرم، چٹ پٹا۔
"بورانی کے پیالے کو منہ سے لگا کر سڑپا اور یہ کہہ کر کہ واللہ بڑی تیز ہے اوہ اوہ کرنا شروع کیا۔"    ( ١٨٧٦ء، تہذیب الاخلاق، ٨٢:٢ )
٣ - (آگ، آنچ وغیرہ کے ساتھ) بھڑکتا ہوا، شعلے والا۔
"مچھلی زیادہ تیز آگ پر نہ پکائی جائے۔"    ( ١٩٣٠ء، عصمتی دسترخوان، ١٤٧ )
٤ - رنگ اور مزے میں بڑھا ہوا۔
"بعض مہمان تیز چائے پیتے ہیں بعض ہلکی چائے استعمال کرتے ہیں۔"    ( ١٩١٦ء، خانہ داری (معیشت)، ٢٥٤ )
٥ - نکھار والا، چوکھا، رنگ میں برتر، شوخ۔
 وہی ہے مہر میں ذرے میں ہے جو رنگ نمود کسی میں تیز کسی میں ذرا ظہور کیا    ( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ٢٦ )
٦ - زور و اثر والا (دعا کے لیے)۔
 فوجوں میں ابتری تھی علی کے طفیل سے سیفی سے صاف، تیز دعائے کمیل سے      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٢٢٧:١ )
٧ - ذہین، چالاک، ہوشیار، جلد جواب دینے والا۔
"یہ بہت تیز طبیعت، پڑھی لکھی، دست قلم تھیں۔"    ( ١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٥٠ )
٨ - شوخ و شنگ، شریر۔
 بے کل تھی، بے مہار تھی پُر فن بھی تیز بھی جو کچھ بھی تھی ضرور تھی پر لا علاج تھی    ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ٢٣٣ )
٩ - تیز رفتار، جلد چلنے والا، عاجل، (مجازاً) سہل، سہل الحصول۔
 کشش عشق نے لیلا کو دکھائی تاثیر آج مجنوں کی طرف فاقہ بہت تیز آیا      ( ١٨٢٤ء، مصحفی، دیوان (انتخاب رامپور)، ٢٦ )
١٠ - جلد گزرنے یا اثر کرنے والا۔
"الفا ریز کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے . یہ شعاعیں انسانی جسم پر جلن اور زخم پیدا کر دیتی ہیں۔"      ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعات، ٥٢٦ )
١١ - گراں، مہنگا (نرخ، بازار وغیرہ کے ساتھ)۔
 بہائے تیغ براں نقد جان اہل جرآت ہے بہت ہے تیز بازار اجل میں نرخ آہن کا      ( ١٨٧٢ء، مرآۃ الغیب، ٥٧ )
١٢ - بڑھا چڑھا، فوقیت لے جانے والا، اونچا، بہتر، سبقت رکھنے والا۔
"فرض کی خوب کہی، اس کا روزہ ہم پر فرض، یہ اس سے بھی تیز رہی۔"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ١٤٢ )
١٣ - دوربین، باریک بین، غائر، گہرا (نظر، آنکھ وغیرہ)۔
 آنکھیں مثل عقاب ہوں تیز ایسی خواہش ہے حیرت انگیز      ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ٣٨ )
١٤ - سخت، درشت، غضبناک (نظر، بات چیت وغیرہ)۔
"مروان اور خالد کی کچھ تیز گفتگو ہوئی۔"      ( ١٩١٧ء، یزید نامہ، ١١٩ )
١٥ - جلد، سناٹے دار (ہوا کے لیے)۔
 چل رہی ہے چار سو باد حوادث تیز و تند کلبۂ احزاں سے تو اے شادی دلہا نہ جا      ( ١٨٠٣ء، گل بکاؤلی، ١٧ )
١٦ - غور سے گھور کر۔
 صدر مجلس میں بٹھایا اس کو دم بدم تیز نجھایا اس کو      ( ١٧٧١ء، ہشت بہشت، ٤٩ )
١٧ - سرگرم، مستعد (پہ یا پر کے ساتھ)
 قتل پر عشاق کے یہ تیز ہے آفت جاں ہے بلاخون ریز ہے      ( ١٩٢٨ء، مثنوی مہر و مشتری، ٨ )
١٨ - [ موسیقی ] باریک، دور تک کھینچنے والا، سیٹی کی آواز کی طرح، تیور سر، آواز کا پچ یا پھیلاؤ۔
"اوپر کاکج خط ایسے سر کو ظاہر کرتا ہے جو نیچے کے سر، کے مقابل زیادہ تیز ہے۔"    ( ١٩٤٧ء، آواز، ٣٩٣ )
١٩ - آواز کے ابھار میں مدھم، تیور کے درمیان کا سر یا آواز کی اونچائی کا درجہ۔
"رڈبرگ نے طیفی سلسلوں میں امتیاز کر کے ان کی تین قسمیں قرار دی تھیں جن کو ہم ان کے انگریزی ناموں کی مناسبت سے صدر، تیز اور منتشر کہہ سکتے ہیں۔"    ( ١٩٣٠ء، طبیعی مناظر، ١٤٣ )
  • sharp
  • keen
  • acute;  penetrating
  • piercing (glance);  hot
  • pungent
  • strong
  • acrid;  caustic
  • corrosive;  fiery
  • passionate
  • impetuous
  • violent;  swift
  • fleet;  quick
  • apt
  • intelligent
  • keen-witted;  high-priced
  • dear